کیا آپ جانتے ہیں کہ نینداپنی عمر کے حساب سے پوری کرنی چاہیئے؟

شائع 06 فروری 2016 05:42am

feature

انسان عمر کے کسی بھی حصے میں ہو ، نیند اس کے لیے بے حد ضروری ہوتی ہے۔جتنے گھنٹے بھی انسان نیند پوری کرے اتنا زیادہ ہی وہ فریش اور ایکٹو محسوس کرتا ہے۔اس کے علاوہ جب انسان بھرپور نیند لیتا ہے تو یہ اس کے دل اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔اچھی اور بے خبری کی نیند ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیلپ کے مطابق جس طرح بھرپور غذا سب کے لیے ضروری ہوتی ہے، ویسے ہی بھرپور نیند بھی انسان کے لیے بے حد ضروری ہوتی ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیلپ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ جو نیند آپ دوپہر میں لیتے ہیں جسے قیلولہ کہا جاتا ہے وہ بھی پوری نیند کے گھنٹوں میں گنا جائے گا۔مثال آپ دوپہر میں آپ دو گھنٹے سوئے اور رات کو آپ نے آٹھ گھنٹے کی نیند لی، تو اس کا مطلب آپ نے پورے دن میں کل دس گھنٹے کی نیند لی ہے۔ جوکہ ایک انسان کے لیے بھرپور نیند ہے۔

sleep-1

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیلپ نے ایک تحقیق سے یہ بات واضح کی ہے کہ انسان کو اپنی عمر کے حساب سے نیند پوری کرنی چاہیئے۔انھوں نے اس حوالے سے ایک چارٹ جاری کیا ہے ،جس میں عمر کے حساب سے نیند کا حصول بیان کیا گیا ہے۔

٭ نومولود تا تین مہینے کے بچوں کو دن میں چودہ سے سترہ گھنٹوں کی نیند پوری کرنی چاہیئے ۔
¿٭ چار سے گیارہ مہینے کے بچوں کو بارہ تا پندرہ گھنٹے سونا چاہیئے۔
٭تین تا پانچ سال کے بچے عموماً اسکول جانا شروع ہو جاتے ہیں، لہذا ان کو دس سے تیرہ گھنٹے کی بھرپور نیند لینی چاہیئے۔
٭ چھ تا بارہ سال کے بچے باقاعدہ اسکول جانے لگتے ہیں، ان کا روٹین بھی مصروف ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ وہ ٹیوشن اور مدرسے وغیرہ بھی جاتے ہیں۔ اس عمر کے بچوں کو آٹھ سے گیارہ گھنٹے لازمی سونا چاہیئے۔
¿٭تیرہ تا سترہ سال کے بچے تھوڑے بڑے ہونا شروع ہوتے ہیں اور ان کا کام کاج اور پڑھائی سے دل بالکل اکتا جاتا ہے ایسے میں وہ سب سونا چاہتے ہیں۔لیکن اس عمر کے بچوں کو بھی آٹھ سے گیارہ گھنٹے ہی سونا چاہیئے اور دوسری سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لینا چاہیئے۔
٭ اٹھارہ یا پچیس عمر کے لوگوں کو بس سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
٭ چھبیس تا چونسٹھ عمر کے افراد بھی سات تا نو گھنٹے سوئیں۔
٭ اس کے علاوہ اس سے بڑی عمر کے افراد سات سے آٹھ گھنٹے تک سوئیں ۔

نیند پوری نہ ہونے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

بعض اوقات لوگوں کو سارا دن نیند آتی رہتی ہے اور جب رات کو وہ باقاعدہ سونے لیٹتے ہیں تو ان کی نیند با لکل غائب ہوجاتی ہے۔اس کی بھی چند وجوہات ہیں جوکہ درج ذیل ہیں۔۔

٭ ہوسکتا ہے آپ نے دن بھر کوئی مشقت والا کام نہ کیا ہو۔
٭ ہوسکتا ہے آپ نے دن بھر میں بہت زیادہ کیفین استعمال کیا ہو۔
٭ہوسکتا ہے آپ اپنی غذا پر توجہ نہیں دے رہے ہوں۔

اگر آپ ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں تو یقینا آپ اچھی اور بھرپور نیند حاصل کرسکتے ہیں۔ لہذا اچھی نیند کے لیے اپنے روٹین اور اپنی غذا پر خاص توجہ دیں ۔