'مسلم مخالف قانون کانفاذمیری لاش سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے'

شائع 17 دسمبر 2019 06:03pm

وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتابینرجی کہتی ہیں مغربی بنگال میں شہریت سےمتعلق مسلم مخالف قانون کانفاذمیری لاش سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی نےشہریت سےمتعلق متنازع قانون کےخلاف احتجاجی مارچ کی قیادت کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے مودی سرکار اور متنازعہ قانون کے خلاف بینرزبھی اٹھا رکھے تھے۔

احتجاجی مارچ میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نےکہاکہ میرے ہوتےہوئےبنگال میں یہ قانون نافذنہیں ہوسکتا، جب تک میں زندہ ہوں شہریت سےمتعلق قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی لیکن آپ میں ہمت ہے تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں مگر میں اپنی ریاست میں اس کالےقانون کوہرگز نافذ ہونے نہیں دوں گی۔

ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ کالا قانون ختم نہیں ہوجاتااور اگر یہ اس قانون پر عملدرآمد  کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کےلئے انہیں میری لاش پرسےگزرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کی بقا پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست سے کسی کو بھی بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے گزشتہ روز نئی دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اورعلی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے متنازعہ بل پر احتجاج کرنے پر پولیس کی جانب  سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔

Read Comments