Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
بھارتی سائبرسیکیورٹی چیف نےاپنی ہی سرکاراورفوجی حکام کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہاہےکہ 21ویں صدی میں جنگ کے طور طریقے بدل چکے ہیں۔جس میں پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر ہم سے کہیں آگے ہیں۔اطلاعات کی جنگ میں دنیا پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات کو وزن دیتی ہے۔پاکستان کا آئی ایس پی آر مؤثر انداز میں اپنا بیانیہ پیش کررہا ہے۔
بھارتی فورسزبھی پاکستان کی طرح مشترکہ آئی ایس پی آر تشکیل دےکر بیانیہ پیش کرے۔
بھارت کے سائبر سیکیورٹی چیف نے بیانیےکی جنگ کے داؤ پیچ سیکھنے کےلئے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سیکھنے کا مشورہ دےدیا۔
لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ راجیش پنٹ کہتے ہیں بھارت کی تینوں مسلح افواج کےلئےالگ الگ پبلسٹی ونگز ہیں۔تینوں افواج کےپی آرونگزاپنے اپنے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں۔اِن کےمقابلے میں پاکستان کا ایک آئی ایس پی آرمؤثر انداز میں اپنا بیانیہ پیش کررہا ہوتا ہے۔بھارتی فورسزبھی پاکستان کی طرح مشترکاآئی ایس پی آر تشکیل دےکر بیانیہ پیش کریں۔
بھارتی سائبر سیکیورٹی چیف کا مزید کہنا تھاکہ پاکستانی مسلح افواج کاترجمان ہرفورس کےاقدامات کی منظم ترجمانی کرتا ہے۔اطلاعات کی جنگ میں پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات کو وزن دیا جاتا ہے۔جب پاکستان کےڈی جی آئی ایس پی آر خطےکودرپیش خطرات کی بات کرتےہیں تودنیااس خطرے کو محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے کہا ڈی جی آئی ایس پی آر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرگفتگو کرتےہیں تو پورا یورپ اُن کی بات توجہ سے سنتا ہے۔
لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ راجیش پنٹ کاکہنا تھا کہ آج کی جنگ میں طورطریقے بدل چکےہیں۔جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر ہم سے کہیں آگے ہیں۔بھارت کو بھی قومی سطح پر اِس سمت میں دیکھنا ہوگااور اپنی فورسز کا منظم بیانیہ پیش کرنے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔