راولپنڈی:پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کردیا کہ پاکستان خطے میں امن خراب کرنے والے عمل کا حصہ نہیں بنے گا،پاکستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ عوام کسی افواہ پر کان نہ دھریں، بھارتی پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے، پاکستان ہر اس اقدام کی حمایت کرے گا جو خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایرانی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا،ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سےسب واقف ہیں،پاکستان نےکشیدگی ختم کرنےکے لیےمثبت کردارادا کیا،4 دہائیوں سےخطے میں جنگوں سےپاکستان متاثرہوا،پاکستان نےدہشت گردی کا خاتمہ کیا۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی،پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا،پاکستان نے بھارت کے دوطیارے مار گرائے،پاکستان کو کئی سالوں تک دہشت گردی کاسامنا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نائب امریکی سیکرٹری خارجہ نے آرمی چیف کو فون کیا،آرمی چیف نے امریکی وزیر خارجہ کو خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیااور کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی کوششیں بھی سب کے سامنے ہیں، خطے میں کشیدگی کم ہونی چاہیئے،ہمارا خطہ بھی کئی جنگوں کا شکار ہوا،تمام فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیارکرناچاہیئے،آرمی چیف سےگفتگومیں خطےکی صورتحال پربات ہوئی۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان اورامریکا کے تعلقات میں بہتری آئی ہے،امریکا نےپاکستان کےفوجی تربیتی پروگرام بحال کیا،ہم نے بہت قربانیوں کے بعد خطے میں امن قائم کیا ،خطےمیں امن خراب کرنےوالی کی حرکت کاحصہ نہیں بنیں گے،نئےبھارتی آرمی چیف پاکستان کی صلاحیت سےواقف ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں،ملکی دفاع پر کسی قسم کاکوئی سمجھوتا نہیں کریں گے،پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے،خطے میں ہماری اہمیت ہے،خطےکی لیڈرشپ میں وزیراعظم عمران خان سےملاقات کی،وزیراعظم عمران خان کےدوست ممالک کےسربراہان سےاچھےتعلقات ہیں،جنرل باجوہ کی بھی خطےکی ملیٹری لیڈرشپ سےاچھےتعلقات ہیں،خطےمیں امن کےلیےہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان خطے میں امن خراب کرنے والے عمل کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔