طیبہ تشدد کیس:سابق جج راجا خرم اوراہلیہ ماہین ظفرکی1،1سال کی سزائیں بحال

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2020 11:28am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئےسابق جج راجا خرم اوراہلیہ ماہین ظفرکی ایک ایک سال کی سزائیں بحال کردیں ۔

سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا،جسٹس اعجازالاحسن نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی اپیلوں پرمحفوظ فیصلہ سنا یا۔

 عدالت نے ملزمان راجا خرم اورماہین ظفرکی ٹرائل کوٹ کی دی گئی ایک ایک سال کی سزائیں بحال کردیں  اور سابق جج راجا خرم اور اہلیہ ماہین ظفر کی سزاؤں میں اضافے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے ملزمان کی سزا ایک سے 3سال کی تھی۔

 فیصلےمیں عدالت نے عدالت نے آرٹیکل 187 کا خصوصی اختیار استعمال کرتےہوئے سزاؤں میں مزید اضافے کی حکومتی اپیل پرملزمان کونوٹس جاری کردیئے۔

 فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کی سیکشن 328 اے کے تحت سزا کے خلاف اپیلیں زیرالتواءہے لہذااڈیالہ جیل انتظامیہ ملزمان کو عدالتی نوٹس سے آگاہ کرے ،رجسٹرار آفس ملزمان کونوٹس موصول ہوتے ہی اپیل سماعت کے لیے مقررکرے ۔

یاد رہے کہ  سپریم کورٹ نے مئی 2019 میں فیصلہ محفوظ کیا تھا،ملازمہ طیبہ پرپرتشدد کا واقعہ دسمبر 2016 میں سامنے آیا تھا ، اسلام آباد کے تھانہ آئی نائن میں 29 دسمبرکوسابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم اور اہلیہ پر مقدمہ درج کیا گیا ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنوری2017 جج راجا خرم علی کوکام کرنے سے روک دیا تھا ، اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثارنے معاملےپرازخود نوٹس لیا تھا ۔

Read Comments