اسلام آباد ایئر پورٹ 4دن کا مہمان ہے، کبھی بھی گرجا ئے گا،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2020 11:30am

کراچی :چیف جسٹس گلزار احمد نے ایئرپورٹس پر مسافروں سے ناروا سلوک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ایئر پورٹ 4دن کا مہمان ہے،کبھی بھی گرجا ئے گا،ایئرپورٹس ملک کے لیے خطرناک جگہ ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایئرپورٹس پر عدم سہولیات اورمسافروں سے ناروا سلوک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی )سول ایوی ایشن تنویر اشرف چیف  جسٹس گلزار احمد کے حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر  چیف جسٹس نے ایڈیشنل ڈی جی سول ایوی ایشن  کی سرزنش  کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو عدالتی حکم کا نہیں معلوم تو آپ کرکیا  کررہے ہیں، صرف دفتر میں بیٹھ کر گدی گرم کررہے ہیں اور چپڑاسی کو بھیج  دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فلائٹ میں تاخیر اور مسافروں کو معاوضے کی ادائیگی کی ایک سال کی رپورٹ ،ایئر پورٹس کی سیکیورٹی اورمنٹیننس سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایئرپورٹس ہرطرح کےجرائم کے ریکٹس بن چکےہیں، یہاں سے اسلحہ،منشیات،کرنسی اسمگل ہوتی ہے،ایئرپورٹ پر آپ لوگ ویڈیو نہیں بننے دیتے،منشیات اور پیسہ نکلتاہے،کوئی ریکارڈنگ نہیں ہوتی،ایئرپورٹ پرریکارڈنگ اس لیےنہیں کرتےکیونکہ ڈیل کی جاتی ہے ،مسافروں کا کیا حال کردیتے ہیں پروازیں لیٹ ہوتی ہیں تو لوگ زمین پر چادر بچھا کر بیٹھ جاتے  ہیں۔

ایڈیشنل سینئر ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا اسلام  آباد ایئر پورٹ بہت بڑا بن گیا ہے ، وہاں کافی سہولیات ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ  اسلام آباد ایئر پورٹ 4دن کا مہمان ہے،کبھی بھی گرجا ئے گا، سرکار اس ایئر پورٹ کو بنانے میں 10دفعہ قیمت ادا کرچکی ہے،ایئرپورٹس ملک کے لیے خطرناک جگہ ہیں۔

 عدالت نے مختلف حادثات اور قانونی کارروائی ایئر پورٹ آپریشن سے متعلق ڈی جی سول ایوی ایشن اتھاڑتی کو 2 ہفتے میں رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے  کی ہدایت کردی۔

Read Comments