جعلی ڈگری رکھنے والے ملازمین کو ایک ایک کر کے نکالیں گے،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020 10:28am

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے پی آئی اے نجکاری خسارہ کیس میں ریمارکس دیئے کہ جعلی ڈگری والے جہاز چلا رہے ہیں،ایک جہاز کے لیے 700 ملازم کام کرتے ہیں،جعلی ڈگری رکھنے والے ملازمین کو ایک ایک کر کے نکالیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پی آئی اے نجکاری خسارہ کیس کی سماعت  کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس  دیئے کہ جعلی ڈگری کے مقدمات یہاں سنیں گے،  جعلی ڈگری رکھنے والے ملازمین کو ایک ایک کر کے نکالیں گے،الخیر یونیورسٹی تعلیمی اسناد فروخت کرتی ہے، جعلی ڈگری والے جہاز چلا رہے ہیں۔

وکیل پی آئی اے نعیم بخاری نے بتایا سندھ ہائی کورٹ نے موجودہ ایم ڈی ارشد محمود کو کام سے روک دیا ہے، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا کہ ارشد محمود کے خلاف درخواست کو عدالت عظمیٰ نے پذیرائی نہیں دی۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ  نئی انتظامیہ پی آئی اے کی بحالی اور خسارہ کم کرنے کے لیے کوشاں ہے، پی آئی اے پر 426 ارب کا قرض ہو گیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ پی آئی اے کی بساط نہیں تھی تو قرض کیوں لیا؟،  پی آئی اے کی نجکاری کی خبریں اتنے بڑے قومی ادارے کےساتھ مذاق ہے،  نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر نہیں بلکہ نیویارک پر ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ   کیا پی آئی اے کو ادارہ چلانا آتا ہے یا نہیں،  ایک جہاز کے لیے 700 ملازم کام کرتے ہیں۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ  پی آئی اے کی بحالی کا یہ آخری موقع ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ  آخری موقع کیوں ؟پی آئی اے کیوں نہیں چل سکتی، ریاستی ادارے کو بند نہیں ہونے دیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ  پی آئی اے کو ملنےوالا مالی بیل آوٹ پیکج مہینوں میں ختم ہو جاتا ہے،جس پر وکیل شجاعت عظیم نے کہا مؤکل نےبیان حلفی میں آڈٹ رپورٹ کے الزامات کو مسترد کیا۔

 بعدازاں سپریم کورٹ نے ملازمین کی جعلی ڈگری سے متعلق مقدمات کی تفصیل طلب  کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4ہفتوں تک ملتوی کردی۔

Read Comments