پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا اپنی حکومت  پر پیسے لے کر نوکریاں بیچنے کا الزام

شائع 15 جنوری 2020 01:24pm

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سردار ریاض مزاری نے اپنی ہی حکومت پر پیسے لے کر نوکریاں دینے کا الزام عائد کردیا۔دوسری طرف یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ کہ بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز بیرون ملک جائے بغیر ایم بی بی ایس کی ڈگریاں بیرون ممالک سے حاصل کررہے تھے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ارکان نے ہنگامہ کردیا جب کہ رکن اسمبلی سردار ریاض نے اپنی ہی حکومت پر پیسے لےکر نوکریاں دینے کا الزام عائد کردیا۔

راجن پور سے پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی سردار ریاض نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ریلوے میں راجن پور سے بھی 21 نوکریاں فروخت کی گئی۔ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ میں نوکریاں بیچی گئی، سب فراڈ ہوا ہے۔اس حوالے سے مکمل فہرست بھی پیش کرسکتا ہوں۔

جس پر پی ٹی آئی کے پارلیمانی سیکریٹری فرخ حبیب نے جواب دیا کہ ہم نے میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں دیں، اگر کوئی ملوث پایا گیا تو کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بعد ازاں  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے الزامات کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سنگین الزمات لگائے گئے ہیں، تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔

وقفہ سوالات کے دوران تحریری جوابات میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں مختلف اقسام کی446 جعلی ادویات تیار کی گئیں۔ سینٹرل ڈرگز ٹیسٹنگ لیبارٹری  سے ادویات کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد عوام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے انکشاف کیا کہ بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز بیرون ملک جائے بغیر  ایم بی بی ایس کی ڈگریاں بیرون ممالک سے حاصل کر رہے تھے۔ان ڈگریوں کی رجسٹریشن بھی کروائی جاتی تھی، چونکہ ہم ڈاکٹر کو رجسٹریشن جاری کر کے انسانوں کی زندگیاں بچانے کا لائسنس دیتے ہیں اس لیے یہ معاملہ ایک سنجیدہ ہے۔ اب میڈیکل گریجویٹ کو  پاکستان میڈیکل کمیشن کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب میرے پاس الیکشن سے پہلے ٹکٹ کیلئے آتے تھے، میرا فون نمبر وزیر بننے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوا۔کراچی کے ارکان جب چاہیں مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

علی زیدی کے ریمارکس پر تحریک انصاف کراچی کے ایم این ایز نے احتجاج  کرتے ہوئے علی زیدی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کو آپس میں ملانے کےلئے پل کی تعمیر شروع نہ ہونے پر توجہ دلائو نوٹس میں علی زیدی نے کہا کہ پل کی تعمیر 9 ارب ڈالر کے پیکج کا حصہ ہے، چینی سرکاری کمپنی نے ایم او یو بھجوا دیا ہے۔

بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ۔

Read Comments