Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
مظفرآباد:آزاد کشمیرمیں برفانی تودے کی تباہ کاریاں جاری ہیں، ہلاکتوں کی تعداد 78 ہو گئی، فوج ، پولیس اور ریسیکو ادارے بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں،موسم صاف ہونے کے باعث لاپتہ افراد کی تلاش کے کام میں بھی تیزی آگئی ۔
وادی نیلم میں برفانی تودوں نے تباہی مچا دی ،سرگن بکوالی ، سرگن سیری اورچکناڑ کے علاقے سب سے زیادہ متاثرہ ہوئے ۔
آزاد کشمیرمیں اب تک 78 افراد جان بحق ہوئے ، حادثات میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ95 گھرمکمل تباہ ہوئے اور107 گھروں کوجزوی نقصان پہنچا ،22 دکانیں 1 مسجد اورمتعدد گاڑیاں بھی برفانی تودے کی زد میں آئیں۔
بائیس گھنٹے بعد برفانی تودے تلے دبی زندہ نکالی جانے والی بچی صفیہ بھی زندگی کی بازی ہارگئی،سرگن سیری سے تعلق رکھنے والی چھ سالہ صفیہ 2روز تک مظفر آباد میں زیرعلاج رہی تاہم زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی جس کے بعد سیری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 19 ہوگئی ۔
متاثرہ علاقوں سے زخمیوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر سے مظفرآباد منتقل کیا جا رہا ہے ،زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں، متاثرہ علاقے میں برفباری سے جاں بحق افراد کی تدفین کا عمل بھی متاثر ہے، پانچ فٹ برف پڑنے کے باعث قبر کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔
پاک فوج ، پولیس اورامدادی ادارے متاثرہ علاقے میں ریلیف آپریش جاری رکھے ہوئے ہیں ، اب تک 2000 ٹینٹس اور1250 کمبل سمیت دیگر اشیاء ضروریہ پہنچا دی گئی ہیں۔
برفباری کے باعث لیپہ ، باغ ، حویلی اورنیلم کے بالائی علاقوں کی سڑکیں بند ہیں ، دوہفتوں سے بند ریشیاں لیپہ روڈ کی بحالی کا کام جاری ہے ۔