سارا کچا چٹھا سامنے ہے،آتشزدگی پرشیخ رشید کواستعفیٰ دے دینا چاہیئےتھا ،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2020 06:35pm

اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے خسارہ کیس میں ریمارکس دیئے کہ سارا کچا چٹھا سامنے ہے، آپ سے ریلوے نہیں چلے گی ، آتشزدگی پرآپ  کواستعفیٰ دے دینا چاہیئےتھا ،ریلوے افسران پیسے لے کربھرتیاں کررہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی،عدالت کے طلب کرنے پر وزیر ریلوے شیخ رشید سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید پر برہمی کا اظہار کیا ۔

 چیف جسٹس نے شیخ رشید سے مکالمہ کیا کہ منسٹر صاحب، بتائیں کیا کر رہے ہیں؟، سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے ، آپ کی انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلے گی ، آتشزدگی کے واقعے کا کیا بنا ، آپ کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیئےتھا۔

شیخ رشید نے آتشزدگی واقعےمیں 19افراد کو برطرف کرنے کا مؤقف اپنایا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر بتایا گیا 2لوگ فارغ کیے گئے ، چھوٹے ملازمین کو فارغ کردیا، بڑے کب آئیں گے۔

 وزیرریلوے نے بڑوں کو بھی نکالنے کی یقین دہانی کروائی تو جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نظر تو نہیں آرہا سب سے بڑے تو شیخ صاحب آپ ہیں، وزیرصاحب لوگوں کو خواب نہ دکھائیں، آج بھی اٹھارہویں صدی کی ریلوے چلا رہے ہیں، محکمے میں لوٹ مارمچی ہوئی ہے 2020 میں بھی سارا نظام پرچیوں پرچل رہا ہے ۔

شیخ رشید نے 18 گھنٹے کام کرنے اور70 لاکھ مسافر بڑھانے کا بتاتے ہوئے کہاکہ نظام بائیومیٹرک کرنے جا رہے ،5سال میں ریلوے خسارہ ختم کردیں گے۔

 چیف جسٹس نے بھرتی پر سوال اٹھایا تو شیخ رشید نے بھرتیاں بند ہونے کا بتایا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ڈیلی ویجز بھرتیاں ہوری ہیں،افسر پیسے لے کر بھرتیاں کر رہے ہیں ، سینئروزیر ہونے پر آپ کی وزارت تو سب سے بہترین چلنی چاہیئےلیکن ادارہ سب سے نااہل ہے، افسران کرسیاں گرم کر رہے ہیں ،شیخ صاحب ریلوے بابووں سے نہیں چلے گی۔

 عدالت نے شیخ رشید سے بزنس پلان سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ عدالت میں پیش کردہ بزنس پلان سے انحراف ہوا تو کارروائی کریں گے۔

سپریم کورٹ نے وزیر منصوبہ بندی اور سیکرٹری پلاننگ کو آئندہ سماعت پرطلب کرلیا اور سندھ حکومت کو ریلوے سے متعلق ہر طرح کی معاونت کا حکم بھی دے دیا۔

بعدازاں عدالت عظمیٰ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت12فروری تک ملتوی کردی۔

Read Comments