ڈی آئی جی خادم حسین اور  ایس پی ڈاکٹر رضوان کے تبادلے غیر قانونی قرار

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020 10:36am

کراچی :سندھ ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی خادم حسین اور  ایس پی ڈاکٹر رضوان کے تبادلے غیر قانونی قرار دے دیئے۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سید پرمشتمل ڈویژن بینچ نے ڈی آئی  جی خادم حسین اورایس پی ڈاکٹر رضوان کے تبادلے سےمتعلق درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نےڈی آئی  جی خادم حسین اورایس پی ڈاکٹر رضوان کے تبادلے غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہاکہ افسران کے تبادلوں میں سندھ پولیس ایکٹ کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمدعلی مظہر  نے اپنے فیصلے میں  کہا کہ آئی جی سندھ سے مشاورت کے بغیرڈی آئی جی خادم حسین اور ایس پی ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ غیر قانونی ہے،پولیس افسران کے تبادلے میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،سندھ حکومت آئی جی سندھ کی مشاورت کے بغیر پولیس افسران کے تبادلے نہیں کر سکتی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے ڈی آئی جی خادم حسین رند اور ایس پی ڈاکٹر رضوان کے تبادلوں کا نوٹیفیکشن معطل کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں 80  پولیس افسران کے تبادلے کردیئے گئے ،سندھ حکومت نے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے،ڈی آئی جی خادم حسین کا تبادلہ بھی آئی جی کے علم کے بغیر تبدیل کردیا گیا ،ڈی آئی جی کے تبادلے کےلیے آئی جی سے مشاورت لازمی ہے۔

Read Comments