وزیر اعظم آفس نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کی تردید کردی
اسلام آباد:ترجمان وزیر اعظم آفس نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافےکی تردید کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتےہوئے ترجمان وزیر اعظم آفس نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہرممکنہ طریقے سے حکومت کے اخراجات میں کمی لانے کی مہم چلا رہے ہیں، جس کا آغاز انہوں نے اپنی ذات سے کیا لہذا ان کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کی تشہیر نہایت افسوس ناک ہے۔
ترجمان وزیر اعظم آفس نے وزیر اعظم کی تنخواہ میں اضافے کی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وزیر اعظم نہ صرف ہر ممکنہ طریقے سے حکومت کے اخراجات میں کمی لانے کی مہم چلا رہے ہیں 1/4
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) January 30, 2020
2/4 اور جس کا آغاز انہوں نے اپنی ذات سے کیا ایسی بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کی تشہیر نہایت افسوس ناک ہے
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) January 30, 2020
ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر کابینہ کے حالیہ اجلاس میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کی تنخواہوں اور مراعات میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب صدر اور وزیر اعظم کے لیے صرف ایک رہائش گاہ کو کیمپ آفس کا درجہ دیا جا سکے گا۔
3/4 ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کابینہ کے حالیہ اجلاس میں صدر اور وزیر اعظم کی تنخواہوں اور مراعات میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب صدر اور وزیر اعظم کے لیے صرف ایک رہائشگاہ کو کیمپ آفس کا درجہ دیا جا سکے گا۔
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) January 30, 2020
ترجمان نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے واضح ہدایت کی کہ ماضی کی روش کی بجائے کیمپ آفسز میں ہونے والے اخراجات کی بھی ایک حد مقرر کی جائے،وزیر اعظم نے کہا کہ سربراہان حکومت پر اٹھنے والے اخراجات عوام کے خون پسینے کی کمائی سے پورے کیے جاتے ہیں اس لیے کوشش کی جائے کہ یہ اخراجات کم سے کم ہوں۔
4/4 وزیر اعظم نے واضح ہدایت کی کہ ماضی کی روش کی بجائے کیمپ آفسز میں ہونے والے اخراجات کی بھی ایک حد مقرر کی جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ سربراہان حکومت پر اٹھنے والے اخراجات عوام کی خون پسینے کی کمائی سے پورے کیے جاتے ہیں لہذا کوشش کی جائے کہ یہ اخراجات کم سے کم ہوں۔
— Prime Minister's Office, Pakistan (@PakPMO) January 30, 2020
