اپوزیشن کاچین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی فوری وطن واپسی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020 11:00am

اسلام آباد:سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو فوری وطن واپس لانے کا مطالبہ کردیا۔

کورونا وائرس کا خوف ،ایوان بالا میں گونج سنائی دی،سینیٹ میں اظہار خیال کرتےہوئے پختونخوا ملی پارٹی کے رہنماء اورسینیٹرعثمان کاکڑ نے نقطہ اعتراض میں کہاکہ چائنہ میں 28 ہزار پاکستانی ہیں جو وطن آنا چاہتے لیکن آنے نہیں دیا جا رہا ، پاکستانیوں کا چین میں روکنا اقدام قتل کے برابر ہے۔

 سینیٹرمشاہد اللہ نے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہرمسئلہ سے جان چھڑانا حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے ، پاکستانیوں کوواپس نہ لانے کا کہنا غلط ہے حکومت پریس کانفرنس کے علاوہ کوئی اقدامات نہیں کررہی۔

 قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے کہا کہ چارٹرڈ طیارے کرکے ممالک اپنے شہریوں کو چین سے نکال رہے ہیں ،ہرملک کواپنے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،چین میں پاکستانی طلبہ واپسی کی دہائی دے رہی ہیں،واپس نہ لانے کا رویہ درست نہیں ۔

سینیٹررحمان ملک نے حکومت فیصلہ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت طلباء کی پریشانی کو سمجھے خصوصی طیارے بھیج کر واپس لایا جائے۔

 سینیٹرمشتاق احمد بولے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس طلباء کی دل شکنی کی پاکستانی سفارت خانہ سے بھی طلباء کو بہت شکایات ہیں۔

حکومتی سینیٹر سیمی ایزدی نے کہا کہ حکومتی اقدامات سخت لگ رہے ہیں، چین میں بیماری کا علاج ہوسکتا ہے لیکن ہم نہیں کرسکتے اس لیے پاکستانی طلباء کو وہاں روکا گیا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چین درینہ دوست ہے، ہرمشکل وقت میں کام آیا ہے، اس مشکل وقت میں ہمیں ساتھ دینا چاہیے اور ماہرین کی معاونت فراہم کرنی چاہے۔

Read Comments