“کسی زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی چلاکرتی تھی ،آخر میں اس کمپنی نے کیا کیا؟”

اپ ڈیٹ 04 فروری 2020 03:53am

اسلام آباد:چیف جسٹس نے پنجاب کی 56 کمپنیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ کسی زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی چلاکرتی تھی ،آخر میں اس کمپنی نے کیا کیا ،آپ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی والا کام شروع کررہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پنجاب کی 56 کمپنیوں میں بے ضابطگیوں کے کیس کی سماعت کی۔

پنجاب حکومت نے سابق دور میں بنائی گئی 56 کمپنیوں میں سے غیر ضروری کمپنیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا،ایڈوویکٹ جنرل نے سپریم کورٹ کوآگاہ کردیا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جن کمپنیوں کی ضرورت نہیں انہیں بند کردیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تمام 56 کمپنیوں کو کیوں بند نہیں کر رہے؟ کیا پنجاب حکومت اپنے قوانین پرکمپنیوں کے ذریعے عمل کروائے گی؟کسی زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی چلا کرتی تھی،آخرمیں اس کمپنی نے کیا کیا؟،آپ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی والا کام شروع کررہے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پنجاب حکومت کو کافی وقت مل گیا،اب اس مسئلے کو حل کرے،کچھ لوگوں نے عدالتی حکم کے باجود تنخواہیں اور مراعات واپس نہیں کیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ پیسے واپس نہ کرنے والوں کےخلاف ریفرنس دائر کردیئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کے ذریعے عوام کو ڈیلیوری نہیں ہوسکتی،جو کام صوبے نے کرنے ہیں وہ حکومت خود کرے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہے،37 کمپنیوں سےعوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے،اس مقدمے میں کچھ آئینی سوالات ہیں جس پروہ عدالت کی معاونت کریں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پنجاب حکومت پہلے نیب کی رپورٹ کا جائزہ لے کرجواب داخل کرائے ۔بعدازاں عدالت نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

Read Comments