سپریم کورٹ نے سابق رکن سندھ اسمبلی اللہ ڈینو کی نااہلیت ختم کردی

اپ ڈیٹ 04 فروری 2020 10:39am

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق رکن سندھ اسمبلی اللہ ڈینو کی نااہلیت ختم کردی، اللہ ڈینو کو ریٹرننگ افسر نے جعلی ڈگری کی بنیاد پرنااہل کردیا تھا ۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے سابق رکن سندھ اسمبلی اللہ ڈینو  کی اپیل کی سماعت کی۔

مخالف وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ اللہ ڈینو بھائیو نے مدرسے کی سند پیش کی جو جھوٹی تھی، سپریم کورٹ نے نوازشریف کے کیس میں بھی غلط دستاویزات جمع کرانے پر فیصلہ دیا ۔

وکیل اللہ ڈینو نے مؤقف پیش کیا کہ موکل کی ڈگری کو اصل تسلیم کیا گیا، ریٹرنگ افسر کے پاس 62 ون ایف لگانے کا اختیار ہی نہیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہاکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ فیصلوں کا صرف حوالہ دیا لاگو نہیں کیے،2010 کے بعد نااہلی سے متعلق قانون بدل گیا۔

  عدالت نے اللہ ڈینو بھائیو پر62 ون ایف بھی ختم کرتے ہوئے قراردیا کہ اللہ ڈینو بھائیو انتخابات لڑسکتے ہیں،ریٹرننگ افسر کسی مخالف کی جانب سے کاغدات نامزدگی چیلنج کرنے پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

یاد رہے کہ  سابق رکن سندھ اسمبلی اللہ ڈینو بھیئو کو یونیورسٹی کی جعلی ڈگری پر2008 میں نااہل کیا تھا ۔

Read Comments