سینیٹ نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی اورکشمیرپراسلامی کانفرنس کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس فوری طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا۔کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کی قرارداد قائد ایوان شبلی فراز نے قرارداد پیش کی۔جس میں یہ ایوان کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہے۔ قرارداد میں بھارتی مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ۔کشمیریوں کی قربانیوں پرعالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی تحقیقات کرائی جائیں۔ بھارت کالے قوانین واپس لے،چھ ماہ سے جاری کرفیو ختم کیا جائے۔
ڈپٹی چیئرمین نے حکومت کومنی بل پیش کرنے کی اجازت دی تو اپوزیشن نے واویلا مچا دیا۔
اپوزیشن کے اراکین اپنی نشستوں پرکھڑے ہو گئے اور کہا کہ یہ بل نہیں آرڈیننس ہے اسے پیش نہ کیا جائے اوراس پر ایوان کی رائے لی جائے،اس پربحث کی جائے ۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے سوال کیا کہ کیا آرڈیننس منی بل کی شکل میں پیش کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ قومی اسمبلی سے بل کی شکل میں ہمارے پاس آیااس پرکس سے رائے لوں۔
شیری رحمان اوردیگرنے بھی اس بل مخالفت کی۔
اعظم سواتی کے ریمارکس پرمشاہداللہ خان برہم ہوئے اورن لیگ نے وزیرپارلیمانی امورکے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
اعظم سواتی نے بتایا کہ یہ آرڈیننس 28 دسمبر کوجاری ہوا۔آج بل کی شکل پیش کیا جارہا ہے ۔
قائد ایوان شبلی فرازنے ڈپٹی چیئرمین سے درخواست کی کہ منی بل کوقائمہ کمیٹی کے سپرد کریں ۔
منی بل کی کاپی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی گئی کمیٹی دس روزمیں اپنی سفارشات مرتب کرکے قومی اسمبلی کوبھجوائے گی۔
سینیٹ اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔