سپریم کورٹ:پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگریوں سے متعلق رپورٹ طلب

اپ ڈیٹ 06 فروری 2020 11:06am

اسلام آباد:سپریم کورٹ  آف پاکستان نے پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگریوں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے پی آئی اے ملازمین کی پروموشن کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری عدالت میں پیش ہوئےاور بتایا کہ 2009 سے پہلے کی الخیر یونورسٹی کی ڈگریوں کو زائد المیعاد کی بنیاد پر درست قرار دیا گیا ہے جبکہ بعد والوں کو دوبارہ امتحان دینے کا کہا گیا ہے۔

جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ نے زائد المیعاد کی بنیاد پر کیسے ڈگریاں درست قرار دے دیں۔

عدالت  نے کہا کہ  بتایا جائے کون کون سے ملازمین جعلی ڈگری کے باوجود حکم امتناعی لے کر کام  کر رہے ہیں، جنہوں نے عدالت سے حکم امتناعی لیے ہیں ان کی تفصیلات بهی پیش کی جائے۔

 جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پی آئی اے کے 146 ملازمین کی جعلی ڈگریوں کی لسٹ ہمیں دی گئی تهی ،پی آئی اے کا پروموشن حاصل کرنے والے ملازمین سے متعلق کیا سٹینڈ ہے؟ ۔

نمائندہ پی آئی اے نے کہا کہ یہ تمام لوگ درست کام کر رہے ہیں،ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں۔

سہیل محمود ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا  کہ جعلی ڈگری والے سٹے آرڈر لے کر ابهی تک ملازمت کر رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ اگر کسی کی ڈگری جعلی ہو تو وہ سرکاری ملازمت کا اہل نہیں، اگر میٹرک کی ڈگری جعلی ہو تو اگلی تمام ڈگریاں بهی جعلی قرار دی جاتی ہیں۔

  عدالت  نے کہا کہ پی آئی اے پروپوزل فائل کرے کہ الخیر اور پرسٹن یونیورسٹی سے لی گئی ڈگری ہولڈر کا کیا کرنا ہے،بعدازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

Read Comments