کراچی :سپریم کورٹ نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری طور پرہٹانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
شاہرا فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر غیرقانونئ عمارت کی تعمیر کا معاملے پر ڈی ایس بی سی اے نے بتایا ایکسٹرا لینڈ پر یہ بلڈنگ بنائی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو چائنہ کٹنگ ہے پوری شاہراہ قائدین ہی دے دیں ان کو ، سندھی مسلم اور پی ای سی ایچ ایس میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
درخواست گزار محمود اختر نقوی کا کہنا تھا یہ دوسرے منظور قادر کاکا ہیں چھوٹی زمینوں پر ہائی رائز کی اجازت دے رہے ہیں ۔
چیف جسٹس نے کہا اس ڈی جی کو تو فوری برطرف ہونا چاہیئے، وزیر اعلی سندھ سے کہیں اسے عہدے سے فوری ہٹایا جائے۔
عدالت کا کہنا تھا چھوٹے پلاٹوں پر اونچی عمارتوں کی تعمیر غیر قانونی ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا یہ بات درست ہے ناظم آباد میں چھوٹے پلاٹوں پر اونچی عمارتیں بن رہی ہیں ، کھلے پیسے چل رہے ہیں ، سرکاری گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا اس طرح کی تعمیرات میں ایس بی سی اے کے افسران ملوث ہیں،، ایسی ہی تعمیرات نے کراچی کو تباہ کیا ہے ، ذاتی مفادات کے لیے کراچی کو تباہ کردیا گیا کراچی میں ہزاروں غیر قانونی عمارتیں تعمیر کردی گئیں۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے وزیر اعلی سندھ کو غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی ۔
عدالت نے کہا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کرپٹ افسران کو بھی برطرف کیا جائے، کرپٹ افسران کی جگہ ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے،چیف سیکرئٹری کو ڈی جی ایس بی سی اے کا اضافی چارج سنبھالنے کی ہدایت کردی ۔