جب تک متعلقہ ادارے ٹھیک نہیں ہوں گے معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 07 فروری 2020 10:55am

کراچی :سپریم کورٹ نے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس میں کہا ہے کہ جب تک متعلقہ ادارے ٹھیک نہیں ہوں گے تو معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔

 سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیرقانونی تعمیرات کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا آپ قانون سازی کیوں نہیں کرتے ؟  ہم قانون بنائیں کیا ؟ ہم کوئی کمیٹی یا کمیشن نہین بنائیں گے آپ قانون پر عمل کریں ۔

 ایڈوکیٹ جنرل نے اعتراف کیا کہ آپ صرف سندھ حکومت پر انحصار کریں گے تو صرف وائٹ واش نظر آے گا، اگر کچھ ہوسکتا ہے تو صرف آپ کرسکتے ہیں آپ ہی درست کرسکتے ہیں  ، اگر آج نہیں ہوا تو 20سال بعد کے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل یہاں یہی بات کررہے ہوں گے۔

 جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جب تک متعلقہ ادارے ٹھیک نہیں ہوں گے تو معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔

 چیف جسٹس نےکہا اٹارنی جنرل صاحب یہ کروڑوں لوگوں کا شہر ہے ہم نہیں چاہتے کوئی ایسی بات کہہ دیں جس سے نقصان ہو، کوئی امید افزا بات نظر نہیں آرہی ۔

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا ریلوے  ٹریک سے 6 ہزار لوگوں کو بے گھر کیا گیا، آپ صرف ووٹوں کے اینگل سے دیکھتے ہیں  نہ لیکن ہم ووٹوں کے حساب سے نہیں دیکھتے ، آپ کو اتنی پریشانی ہے تو انہیں بسانے کے لیے  قانون سازی کردیں ۔

 ایڈوکیٹ جنرل نے کہا اٹارنی جنرل بتائیں گے کہ صوبائی حکومت کے 100ارب روپے وفاق پر واجب الادا ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا تھر میں نام نہاد 105  ارب روپے لگائے گئے ایک پائی نہیں لگائی، سارا پیسہ تو باہر چلا گیا ، یہ پیسہ بھی آجائے تو غائب ہوجائے گا۔

 جسٹس فیصل عرب نے کہا آپ کے تھانے تک تو کرائے پر ہیں، زمینیں الاٹ کررہے تھے تو  پلے گراؤنڈ اور پارکوں کے لیے زمینیں کیوں نہیں رکھی ؟ ہمیں اس بات کا درد ہے کہ آپ کو خود  خیال نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سٹی پلانرز کی کوئی کمیٹی ہے ؟ جس پر چیف سیکریٹری نے کہا جی ماہرین کی کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے ، ہم نے سفارشات کابینہ کو بھیج دی ہیں مزید وقت لگے گا ۔

درخواست گزار  نے کہا کمیٹی میں شامل لوگ خود قبضوں میں ملوث ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا اب بتائیں کس  پر بھروسہ کریں ؟ اب کراچی ری ڈیزائننگ نہیں لکھیئے گا بلکہ صرف تجاویز دیں ،تجاوزات کا مکمل  خاتمہ، کچی آبادیوں کی ری سیٹلمنٹ اور متاثرین کی آبادکاری کے حوالے سے سفارشات دیں اور میڈیا  کے ذرئعے بھی متعلقہ ماہرین سے سفارشات لیں۔

 ایڈوکیٹ جنرل نے کہا نہر خیام پر تعمیراتی سرگرمیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی۔

عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کو مقدمہ فوری نمٹانے  کا حکم دیتے ہوئے کہا نہر خیام پر تعمیراتی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

پی آئی اے پلانیٹیریم سے متصل  شادی ہال گرانے کے معاملے پر ڈائریکٹر پی آئی اے نے کہا کہ شادی ہال ختم کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے  کہا میں نے کل ہی دیکھا ہے شادی ہال موجود ہے ، جس پر ڈائریکٹر پی آئی اے نے کہا سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں ، وہاں کوئی کمرشل کام نہیں ہورہا۔

 عدالت نے کہا کل تک  اسٹرکچر ختم کرکے رپورٹ پیش کریں جبکہ عدالت پی آئی اے کو دی گئی دیگر زمینوں سے متعلق بھی رپورٹ پیش پیش کرنے کی ہدات کردی۔

Read Comments