Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی کے ملزمان کوسرعام پھانسی دینے کیی قرارداد کثرت رائے سے منظورکرلی ۔
قومی اسمبلی نے بچوں کوجنسی زیادتی کا نشانہ بناکرقتل کرنے والے ملزمان کوسرعام پھانسی دینے کی قراداد کثرت رائے سے منظورکرلی۔
وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے قرارداد پیش کی اورکہا کہ وزیراعظم بچوں سے زیادتی کرنے والوں کے لیے سزائے موت چاہتے ہیں، بلاول بھٹو انسانی حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں،زینب الرٹ بل میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کے مطالبے کی مخالفت کی گئی۔
پیپلزپارٹی نے قرارداد کی مخالفت کی،راجہ پرویزاشرف نے کہاکہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان پراقوام متحدہ کے قانون لاگو ہوتے ہیں ،اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی۔
راجہ پرویزاشرف نے سنگین غداری کیس کا نام لیے بغیرکہا ایک اورکیس میں بھی سرعام پھانسی کا فیصلہ آیا تھا اس کا کیا ہوا؟۔
وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ 2018 میں اسلام آباد میں بچوں سے زیادتی کے 66 اور 2019 میں 60 واقعات ریکارڈ کیے گئے ، 2018 میں 80 ملزمان اور2019 میں 75ملزمان گرفتارہوئے ایک ملزم کو سزا ہوئی باقی کا ٹرائل ہورہا ہے۔
Click to see more