اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسکولوں میں بچوں پرتشدد پرپابندی لگادی

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020 10:55am

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پرتشددفوری روکنےکاحکم دیتے ہوئے اسکولوں میں بچوں پرتشدد پرپابندی لگادی ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بچوں پرتشدد اورجسمانی سزا پرپابندی کے لیے معروف گلوکار شہزاد رائے کی درخواست پرسماعت کی۔

دوران سماعت شہزاد رائےکےوکیل نے مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد رائے زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 2اسکول چلارہے ہیں، بچوں پر آج بھی تشدد ہوتا ہے اور جسمانی سزا دی جاتی ہے، کچھ روز قبل لاہور میں ایک پرائیویٹ اسکول میں حنین بلال پر بھی اسی طرح تشدد کیا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا قومی اسمبلی نے کوئی بل بھی پاس کیا تھا، جس پر شہزاد رائے کے وکیل نے کہا سیاسی معاملات کی وجہ سے قانون سازی نہیں ہو پارہی، آج بھی اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دی جاتی ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔

 عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پرتشدد فوری روکنے کا حکم دیتےہوئے کہاکہ وزارت داخلہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں پر تشدد کی روک تھام کے اقدامات کرے ۔

 اسلام آبادہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ۔

 شہزاد رائے نے درخواست میں داخلہ،قانون، تعلیم اور انسانی حقوق کے سیکریٹریزسمیت آئی جی پولیس اسلام آباد کو بھی فریق بنایا ، بعدازاں عدالت نےکیس کی سماعت 5 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔

Read Comments