سپریم کورٹ نے بلوچستان سرکاری افسر تحفظ کیس نمٹا دیا

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020 10:54am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے بلوچستان سرکاری افسر تحفظ کیس نمٹا دیا ، دوران سماعت چیف جسٹس گلزاراحمد نے درخواست گزارکومخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ 2گھنٹے تک آپ کی درخواست پڑھی،آپ کی درخواست خوشنمائی سے زیادہ کچھ نہیں‎۔ ‎

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے بلوچستان سرکاری افسرتحفظ کیس کی سماعت کی۔

درخواستگزارعبدالخالق زہری نے بینچ کو ایکسی لینسی کہہ کر پکارا تو چیف جسٹس نے منع کردیا ۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے جناب ہرمحکمہ تنگ ہے،آپ جس ادارے میں جاتے ہیں وہ رکھنے سے انکارکردیتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زہری صاحب،آپ کے پاس جوہے اس پرقناعت کریں، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ ایماندار ملازم ہونے کے باعث برداشت نہیں کرتے۔

 جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کیا خود کے علاوہ علاوہ سب کرپٹ نظرآتے ہیں ، اپنے علاوہ سب کو بلیک لیبل کردیا ہے، 2گھنٹے تک آپ کی درخواست پڑھی، جو خوشنمائی سے زیادہ کچھ نہیں، بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی مقدمہ دائر کر رکھا ہے،بلوچستان ہائی کورٹ کوہدایت کردیتے ہیں وہ آپ کے کیس کا جلد فیصلہ کرے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نےبلوچستان ہائی کورٹ کو ہدایت کے ساتھ سرکاری افسران تحفظ کیس نمٹادیا ۔

Read Comments