اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ،افغانستان میں امن مذاکرات ہر صورت کامیاب ہونے چاہئیں،افغانستان میں بد امنی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے افغان مہاجرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، پاکستان گزشتہ 20سال میں سخت معاشی حالات سے گزرا لیکن پاکستان نے میزبانی جاری رکھی کیوں کہ فراخ دلی کا تعلق بینک بیلنس سے نہیں ہوتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے بچوں نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنا سیکھی،آج افغان کرکٹ ٹیم عالمی درجہ بندی میں شامل ہوچکی ہے،اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں انسانوں پر رحم کا درس دیتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ1947میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی،رسول اللہﷺنےمکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی،مدینہ منورہ کےانصارنےمہاجرین کی مثالی مہمان نوازی کی،اپنی سرزمین اورگھر چھوڑناسب سےمشکل فیصلہ ہوتاہے،کوئی بھی خوشی سےاپناگھرچھوڑکرہجرت نہیں کرتا،ان حالات کوسمجھنےکی ضرورت ہےجن کی وجہ سےہجرت ہوتی ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ نائین الیون کےبعد ہمیں اسلاموفوبیاکاسامنا کرناپڑا،مغرب میں اسلامو فوبیا نظریات نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا،بھارت میں متنازع شہریت بل نےعوام کومشکل میں ڈال دیاہے،بھارت میں20کروڑ مسلمانوں کا استحصال ہورہا ہے،سیاسی رہنماؤں نےووٹوں کےلیے لوگوں کوتقسیم کیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی کے 2قوانین سے20کروڑ بھارتی مسلمان متاثرہوئے،بھارت کے مسلمانوں نے احتجاج کیا تو کہا گیا پاکستان چلے جاؤ،مجھے بھارت کے حالات پر شدید تشویش ہے،بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم تشویشناک ہیں،اقوام متحدہ نے پاک بھارت کشیدگی پر کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
وزیراعظم نےمزید کہا کہ بھارت میں سیاست دان لوگوں کو تقسیم کررہے ہیں،ایک ارب سے زائد آبادی کے ملک میں انتہا پسندانہ سوچ غالب ہے،کشمیر میں انتہا پسند سوچ نے80لاکھ مسلمانوں کوقید کردیا، آج کا بھارت نہرو اورگاندھی کاہندوستان نہیں،آج بھارت میں نازی اورفاشسٹ نظریہ مسلط ہے،بھارتی آرمی چیف آئےروزپاکستان کودھمکیاں دیتے ہیں ،دنیا کو بھارت کی انتہاپسندی کا نوٹس لینا چاہیئے۔
اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں ،دہشت گردی کے خلاف جنگ سے عوام بھی متاثرہورہےہیں ،پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپ موجود ہیں۔
وزیراعظم نےمزید کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے دعا گو ہیں،ہم دل سے چاہتے ہیں کہ افغان امن مذاکرت مکمل ہو،افغان مسئلہ کاپرامن حل ناگزیر ہے ،افغانستان میں جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔