سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کیس میں فنانس اور اوجی ڈی سی ایل کے اعلی حکام کو کل طلب کرلیا۔عدالت نےکہا کہ ایسے افسر آئیں جوعدالتی سوالوں کے جوابات دے سکیں ۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے۔ایران ترکمانستان اپنے حصہ کے منصوبے مکمل کرسکتے ہیں توہم کیوں نہیں؟
سپریم کورٹ میں جی آئی ڈی سی کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
سپریم کورٹ حکومتی افسروں کی جانب سے بغیرتیاری سے آنے پر برہم ہو گئی۔
جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ افسردفتر میں چائے پینے کے بجائے سپریم کورٹ کیوں نہیں آتے۔ڈپٹی سیکرٹری کے بجائے ایڈیشنل سیکریٹری لیول کے افسر کو توآناچاہیئے۔
سی ای او انٹراسٹیٹ گیس نے کہاکہ 295 ارب روپے کسی بھی منصوبے کو مکمل کرنے کےلئے ناکافی ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ اس سیس کا انڈسٹری کو کیا فائدہ ہوگا؟انڈسٹری کو بلاتعطل 25 سال تک گیس ملے گی۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ کیاحکومت نے ماضی میں کسی منصوبے کےلئے سیس لگا کر پیسہ اکٹھا کیا؟
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ گیس تو انڈسٹری کو پہلے بھی مل رہی ہے۔سیس کی مد میں آنے والی رقم کی تفصیلات سپریم کورٹ کو فراہم کردی گئیں۔
اکاؤنٹنٹ جنرل نے کہاکہ منصوبوں کےلئے فنڈز طلب کرنے پر فراہم کردیئے جائیں گے۔
جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے۔ایران ترکمانستان اپنے حصہ کے منصوبے مکمل کرسکتے ہیں توہم کیوں نہیں؟
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ سیس کی مد میں آنےوالی رقم سے تنخواہیں دی جارہی ہیں۔
جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ دوسرے ایشین ممالک جوکام کرسکتے ہیں وہ ہم کیوں نہیں کرسکتے؟
سپریم کورٹ نے فنانس اور اوجی ڈی سی ایل کے اعلی حکام کو کل طلب کرلیا۔
عدالت نے کہاکہ ایسے افسرآئیں جوعدالتی سوالوں کے جوابات دے سکیں۔