عمران خان ناکامی کا اعتراف کرچکے ہیں مستعفی ہوجائیں،خورشید شاہ

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020 11:12am

سکھر:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ءخورشید شاہ نے کہا ہے کہ  عمران خان ناکامی کا اعتراف کرچکے ہیں مستعفی ہوجائیں،اپنی جگہ کسی اور کو لائیں ،اپوزیشن رکاوٹ نہیں بنے گی،ملک میں انتقام نہیں انصاف ہونا چاہیئے،انتقام کی سیاست اور مہنگائی سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

سکھر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنماء خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان مہنگائی سمیت دیگر مسائل پر قابو پانے کے حوالے سے اپنی ناکامی کا اعتراف کرچکے ہیں اس لیے وہ مستعفی ہوجائیں اور اپنی جگہ اپنی جماعت سے کسی اور بندے کو لائیں اپوزیشن ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ  عمران خان آرٹیکل 6 کو خراب نہ کریں آرٹیکل 6 کو بغور مطالعہ کریں اگر وہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی ایسا اقدام کرتے ہیں تو پھر ان کی خود کی سول نافرمانی کی باتیں بھی سامنے آئیں گی۔

رہنماء پیپلز پارٹی کامزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی گرفتاری ان کے لیے اور اپوزیشن کے لیے پیش رفت ثابت ہوگی ہمارے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی ہم نے ضیاء الحق، یحییٰ اور مشرف سمیت 40تک آمریت کا مقابلہ کیا ہے ۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی توقیر نہ ہونے کی بات چبھتی ہے حالانکہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں پر تمام ملکی مسائل حل ہوسکتے ہیں ،ملک میں پارلیمنٹ تو موجود ہے مگر وہاں پر وہ بات نہیں ہورہی ہے جو ہونی چاہیئے،ملک کے اہم مسئلے مہنگائی جس کی وجہ سے ملک میں خطرناک انقلاب آسکتا ہے انارکی پھیل سکتی ہے پر بات نہیں ہورہی ہے ۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء نے کہا کہ حکومت گالم گلوچ کے سوا بات نہیں کرتی میرا اپوزیشن کو مشورہ ہوگا کہ وہ حکومت کی گالم گلوچ کی باتوں کا جواب نہ دے بلکہ اسپیکر سے بات کرکے حکومت کو پارلیمنٹ میں ایک گھنٹہ دلادے تاکہ وہ جی بھر کر اپوزیشن کو گالم گلوچ دے سکے اور اس کے بعد اپوزیشن مہنگائی کے خلاف بات کرے ۔

خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں انتقام نہیں انصاف ہونا چاہیئے،انتقام کی سیاست اور مہنگائی سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ،میں خود انتقام کا نشانہ بنا ہوں 8 مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوچکا ہوں اس سے بڑا میرا احتساب کیا ہوگا میرے خلاف ان ہی باتوں پر تفتیش کی جارہی ہے جو میں پہلے ہی اپنے گوشواروں میں تحریر کیا ہوا ہے اور وہ گوشوارے ایف بی آر کے پاس موجود ہیں ۔

پی پی رہنماء کا کہنا تھا کہ یو این کے سیکرٹری جنرل کی پاکستان آمد اچھی بات ہے گزشتہ دونوں طیب اردگان نے بھی اپنے دورے کے موقع پر اچھی باتیں کی ہیں لیکن اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے کتنے دوست بناتے ہیں۔

Read Comments