حکومت ایسےکام کرے گی تو لوگ پتھر ماریں گے ،اسلام آباد ہائی کورٹ

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020 04:45pm

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی کی عدم فعالی کیس میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو سمجھانے والا کوئی نہیں ، حکومت ایسے کام کرے گی تو لوگ پتھرماریں گے ،وزارت صحت آگ سے کھیل رہی ہے، سلطان راہی کی طرح ادارے پرتالے لگانے والوں نے غلط کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی عدم فعالی پر توہین عدالت کیس پرسماعت کی۔

 جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ پی ایم ڈی سی کو کس کی ہدایت میں سیل کیا گیا ؟جس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایاکہ انتظامیہ نے نہیں وزارت صحت نے عمارت کو خود تالے لگائے۔

 جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ حکومت اس طرح کام کرے گی تو لوگ پتھر ماریں گے،حکو مت سمجھتی ہے کہ یہ ادارہ غیر ضروری ہے تو پارلیمنٹ میں جائیں ،وزارت صحت کو اندازہ نہیں کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں، جو وزارت کیماڑی گیس سے ہلاکتوں کا اندازہ نہیں لگا سکی کیا وہ کورونا سے لڑے گی؟ ۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہاکہ طریقہ کار سے ملک دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے،اداروں کے ساتھ حکومت یہ کرے گی تو ملک تباہ ہو جائے گا،کیا وفاقی حکومت کو سمجھانے والا کوئی نہیں؟ حکومتیں ایسی نہیں چلتی۔ کام کرنے کا طریقہ کار ہے۔

 عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری ملازم کو گھربھیجنا مشکل ہے یہاں ادارہ گھر بھیج دیا کل حکومت کو جج اور وکیل پسند نہ آئے تو کیا انہیں گھر بھیج دیں گے ، سیکرٹری صحت اپنی عقل استعمال کریں،وزارت صحت نے جو نوٹیفکیشن لکھا ایسا تو پٹواری بھی نہیں کرتے۔

جسٹس محسن اختر نے سٹیزن پورٹل پر ریمارکس دیے کہ ہرادارے کے باہر ایسے نوٹیفکیشن لگا دیں،پھر پورٹل پرشکایات موصول کریں پھر لوگوں کوبتانا کہ پورٹل پراتنی شکایتیں حل کردیں ۔

جسٹس محسن اختر نے کہاکہ آرڈیننس کی کوئی حثیت نہیں ،ختم ہو چکا ،ملازمین کے حقوق محفوظ ہیں ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کی عمارت سیل کرنے پرسیکرٹری صحت سمیت تمام فریقین کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کرتےہوئےسماعت 25 فروری تک ملتوی کردی۔

Read Comments