مفاد عامہ کا معاملہ ہے،کچھ چیزیں عقل استعمال کر کے کرنی چاہئیں،سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020 10:45am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پنجاب کی سول اور ڈسٹرکٹ کورٹ کو نمبر الاٹ کرنے سے متعلق کیس  میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے،کچھ چیزیں عقل استعمال کر کے کرنی چاہئیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نےپنجاب کی سیول اور ڈسٹرکٹ کورٹس کو نمبر الاٹ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ ججز کے تبادلے کے بعد لوگوں کے مقدمات کہاں جاتے ہیں؟،لوگ سارا دن دھکے کھاتے ہیں،انہیں کیس سے متعلقہ کورٹ روم نہیں ملتا۔

سینیر وکلا ءکا کہنا تھا کہ بعض اوقات عدالتی کمرے ڈھونڈنے کے چکر میں کیس ہی گزر جاتا ہے۔

 جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ڈپٹی رجسٹرار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کو مشکلات ہوتی ہیں تو سوچیں عام آدمی کا کیا حال ہوگا،ڈپٹی رجسٹرار صاحب آپ خود کام نہیں کرنا چاہتے،  پنجاب میں 1800 سے زائد کورٹ روم ہیں کسی ایک کو بھی نمبر جاری نہیں کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ معاملہ ہائی کورٹ کی حدود میں آتا ہے لیکن سپریم کورٹ اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی،یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے، کچھ چیزیں دماغ سے کی جانی چاہئیں، ہم 21 ویں صدی میں رہ رہے ہیں کورٹس کو نمبر دینے کےلیے نوٹیفکیشن کا انتظار کرتے ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اگر تمام کام ہائی کورٹ نے کرنا تھا تو 2سال سے ایکٹ لے کر کیوں بیٹھے ہیں۔

 عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب کی تمام سول اینڈ ڈسٹرکٹ کورٹس کو روم نمبر اردو اورانگریزی میں جاری کیا جائے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور کمیٹی معاملہ جلد حل کریں۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے اگلی سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کر تےہوئے سماعت 16 مارچ تک ملتوی کردی۔

Read Comments