Aaj Logo

شائع 28 فروری 2022 08:44pm

میری کتاب کو میرے مرنے کے 20 سال بعد بھی یاد کیا جائیگا: ریحام خان

رپورٹ: کامران شیخ

کراچی: معروف صحافی واینکرپرسن اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے کہا ہے کہ میں اگرخبروں میں نہ بھی رہنا چاہوں توبھی خبر کی زینت بن جاتی ہوں۔

کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ میں سیاسی شخصیت ہوں، لوگوں کا یہ خیال اس وقت بھی تھا جب میں بنی گالا میں شامی کباب بنارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں شامل ہونا کوئی غلط بات نہیں ہم سب کو سیاست کرنی چاہیئے لیکن سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ووٹ کہاں ڈالیں جب آپکو یہ ہی نہ معلوم ہوکہ کونسی سیاسی جماعت کس نظرئیے یا ایشو پر کھڑی ہے تو ہم کیسےکسی کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ریحام خان نے کہا کہ میری کتاب کو میرے مرنے کے 20 سال بعد بھی یاد کیا جائیگا لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ اتنی دلچسپی اور پبلسٹی حاصل ہوگی کہ ہر زباں پر یہی نام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بہت کوشش کی گئی کہ الیکشن سے پہلے یہ قصہ ختم ہوسکے لیکن میں دل سے شکرگذار ہوں "بحث چھیڑنےوالوں کی" جن کی وجہ سے خوب پبلسٹی میسر ہوئی، پہلے میری انگریزی لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب پوچھا جارہاہےکہ میں دوسری کتاب کب لکھوں گی ایسے لوگوں کو کہوں گی کہ وہ پہلی کتاب تو مکمل پڑھ لیں۔

ریحام خان نے کہا کہ اس وقت حکمراں جماعت اور اپوزیشن سمیت تمام ہی سڑکوں پر ہیں یہ جماعتیں اپنے ہمراہ عوام کو بھی لے آئیں مجھے سمجھ میں نہیں آرہاکہ اس وقت پارلیمنٹ میں کون ہے؟ اداروں میں کون کام کررہاہے؟ جب ساری دنیا دھرنے میں ہوگی توکام کون کریگا یہی ہمارا المیہ ہے بنیادی طور پر ہم کام کو ترجیح نہیں دے رہے دراصل ہمارے مسلے یہ نہیں ہیں ہم نے ان سیاستدانوں کو اگر ووٹ دیئے ہیں تو وہ اسلئے نہیں کہ فضول بیانات کریں یا پریس کانفرنس یا پھر کرسی انجوائے کریں ان سیاستدانوں کو اسمبلی میں معیشیت پر بات کرنی چاہیئے۔ایک سوال کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ عمران خان کا "بلیک بیری" میرےیا فیملی کے پاس نہیں بلکہ وہ "محفوظ" ہاتھوں میں ہے میں رہوں یا نہ رہوں، بلیک بیری رہیگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان میں کوئی خاص ہمت نہیں دیکھی وہ سب کو کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں لیکن وہ خود گھبراگئے۔

ریحام خان نے کہا کہ میرا کراچی آنےاور پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ کافی عرصے سے تھا اسکی اہم وجہ یہ تھی کہ میں چونکہ بنیادی طور پر صحافی ہوں اور صحافی کہانی کےلئے دوڑتا اور کہانی کی طرف آتا ہے میں جب یوکے میں تھی تو مجھے لگا کہ ہمیں اپنی کہانی بیان کرنی چایئے اور پاکستان آنے کے بعد میری یہ خواہش ہے کہ خواتین کے حقوق کی بات کروں، خواتین صحافیوں اور ڈائریکٹرز کوایکسٹرا اٹینشن دلاسکوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نئی نسل کی صحافیوں، وی لاگرز کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں دراصل ہم بیانئے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہمارا بیانیہ کسی اور کے پاس ہے ہمیں اپنی کہانی خود لکھنی چاھیئے، میرے ذہن میں ابھی تک جمہوریت ہے خؤاہ ملک میں ہو یا نہ ہو۔

اپنی کتاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ میں نے یہ کتاب اس نیت سے لکھی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے اسکی نشاندہی ضروری تھی ریحام نے کہا کہ کتاب پڑھ کر ایک بیوروکریٹ کی اہلیہ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ جب جب میں کتاب کا صفحہ پلٹتی ہوں توجو آواز مجھ سے نہیں نکل سکی مجھے وہ آواز سنائی دیتی ہے ۔

Read Comments