Aaj Logo

شائع 09 اگست 2022 04:34pm

فیکٹ چیک: کیا عمران خان کی فیملی 1930 کی گول میز کانفرنس میں موجود تھی؟

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر شیئرکی جانے والی ایک تصویرمیں قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

عمران خان کے مطابق 1930 میں لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس کے دوران کھینچی جانے والی اس تصویر میں ان کے 2 قریبی عزیز بھی شریک تھے۔

انہوں نے کیپشن میں تصویر کو اپنے خاندان کے لیے باعث فخر قراردیتے ہوئے کہا کہ “اس میں میرے دادا کےبھائی محمد زمان خان (جن کے نام پر زمان پارک قائم کیا گیا) اور میرے خالو جہانگیر خان بھی موجود ہیں “۔

ناواقفیت رکھنے والے جان لیں کہ جہانگیر خان سابق وزیراعظم کی خالہ مبارک خانم کے شوہراور برطانوی راج کے دوران ہندوستان کی جانب سے کھیلنے والے معروف کرکٹر تھے۔

بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے تصویر دیکھتے ہی تبصرہ کیا کہ عمران خان کا یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ گول میز کانفرنس میں شریک مندوبین کی برطانوی اوپن یونیورسٹی کی مرتب کردہ فہرست میں ایسے کسی نام کا ذکر نہیں ہے۔

ٹوئٹرصارفین نے مستندحوالوں کے ساتھ اپنے تبصروں میں واضح کیا کہ عمران خان کے رشتے داروں کی گول میز کانفرنس میں موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔

ایک صارف نے انہیں یاد دلایا کہ یہی تصویر خان صاحب 2018 میں بھی یوم آزادی کے موقع پرشیئرکرچکے ہیں لیکن اس وقت محمد زمان خان ان کے داداکے بھائی کے بجائے “والدہ کے چاچا” تھے۔

معروف صحافی ابصارعالم نے گول میز کانفرنس میں شریک افراد کے ناموں کی پوری فہرست شیئرکرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے تو نہیں البتہ بلاول بھٹو کے دادا سرشاہنوازبھٹو اس کانفرنس میں موجود تھے۔

تاہم ایک صارف نے جواب میں لکھا کہ علامہ اقبال 1930 میں ہونےوالی گول میز کانفرنس کا حصہ نہیں تھے، یہ تصویر 1932 کی کانفرنس کے دوران ایک عشائیے کی ہے۔

صارفین کی جانب سے ایسے نادر اندازے بھی لگائے گئے۔

کئی صارفین نے اس تصویر کو ہی جعلی قرار دے دیا۔

Read Comments