Aaj Logo

اپ ڈیٹ 12 اگست 2022 04:36pm

شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کی رہنما کنول شوزب، علی نواز اعوان اور دیگر بھی اسلام آباد کچہری پہنچے۔

شہباز گِل کی پیشی کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری عدالت اور اطراف میں تعینات کی گئی۔

کمرہ عدالت میں رش ہونے پر عدالت نے غیر ضروری افراد کو باہر نکالنے کی ہدایت کی۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کی عدالت میں موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مداخلت دیکھ لیں ایڈووکیٹ جنرل کس حیثیت میں آگئے جس پر پولیس کی جانب سے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی ہتھکڑیاں کھول کر وکلا سے ملاقات کی اجازت دی۔

دوران سماعت شہباز گل نے قمیض اٹھا کر کمر دکھاتے ہوئے کہا کہ تشدد کیا جاتا ہے، ساری رات جگاتے ہیں، سونے بھی نہیں دیا جاتا، افواج سے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی بات کروں، پروفیسر ہوں کرمنل نہیں ہوں، فرضی میڈیکل اپنی مرضی سے بنایا گیا، پوچھا جاتا ہے سابق وزیراعظم کھاتے کیا ہیں۔

جج نے استفسارکیا کہ مطلب فرضی رپورٹ بنائی گئی جبکہ عدالت میں شہباز گل کی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ پڑھا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیرجدون نے ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ ڈرائیورکو بنی گالہ چھپایا ہوا ہے ، بیان کے پیچھے کون ہے نہیں بتا رہے ، سچ چھوٹ کا پتہ کرنے کے لیے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے۔

پراسیکیوٹرنے کہا کہ فوج میں مختلف رینکس کو بغاوت پراکسانے کی کوشش کی گئی دیکھنا ہے،یہ موبائل کیوں نہیں دے رہے، پروگرام کے پیچھے پروڈیوسرکون تھا، شہباز گل کے ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی، پروگرام میں یہی بات کررہا ہے، ہوسکتا ہے ملزم کوکراچی لے جانا پڑے۔

عدالت نے دوسرے موبائل سے متعلق پوچھا تو تفتیشی افسرنے دوسرے موبائل کی معلومات سروس کے بتانے کا مؤقف اپنایا ۔

شہبازگل نے کہا کہ بات لینڈ لائن نمبرسے ہوئی، موبائل سے نہیں جبکہ شہبازگل کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ ایک کیس میں 2مقدمے نہیں ہوسکتے، کراچی مقدمے میں ملزم کو اسی روزرہا کردیا اور یہاں نہیں۔

شہبازگل نے بتایاکہ باربارسوال ہوتا ہے کہ عمران خان نے تمہیں کہا تھا،کہتا ہوں میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔

شہبازگل کے وکیل نیازاللہ نیازی نے کہاکہ عمران خان کہتاہےکہ ملک کے لیے مضبوط فوج ضروری ہے ،اداروں کا احترام کرتے ہیں ۔

بعدازاں عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، جو تقریبا پونے 11 بجے سنادیا گیا۔

عدالت نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کیخلاف اپیل مسترد کردی

بعدِ ازاں پراسیکیوٹر کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کے خلاف اپیل ایڈیشنل جج محمد عدنان خان نے مسترد کردی۔

عدالت نے پولیس کی نظرثانی اپیل ناقابل سماعت قراردے دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرنا درست ہے۔

شہباز گل کی گرفتاری

سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف کو ٹی وی ٹاک شو میں ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف بیانات کے الزام میں 3 روزقبل بنی گالا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

شہبازگل کے خلاف تھانہ بنی گالا میں سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا، ایف آئی آر میں اداروں اور ان کےسربراہوں کے خلاف اکسانے سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔

شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر

واقعے کے بعد شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی تھی ،جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ پولیس اہلکار یونیفارم میں ہیں۔

اس سے قبل پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز گل کو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ لے گئے۔

فوٹیج کے مطابق سیکیورٹی اہلکار شہباز گل کو گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کررہے تھے، پی ٹی آئی رہنما کے باہر نہ آنے پر گاڑی کا شیشہ توڑا گیا اور شہباز گل کو باہر لایا گیا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق شہبازگل پولیس اہلکاروں کے ساتھ چلتے ہوئے گاڑی میں جاکر بیٹھ گئے تھے۔

شہباز گل 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

10جولائی کو اسلام آباد کی تھانہ کوہسارپولیس نے پی ٹی آئی رہنماء شہباز گل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا تھا۔

عدالت میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی جبکہ پی ٹی آئی رہنما کے وکیل فیصل چوہدری نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی تھی۔

عدالت نے شہباز گل کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کیا تھا اور کوہسار پولیس کو پی ٹی آئی رہنما کو جمعہ 12 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

شہباز گل سے تحقیقات کے لیے 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

اسی روز پولیس نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل سے تحقیقات کے لیے 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔

Read Comments