پی ٹی آئی کی لابنگ؟ شفاعت علی کےالزام پرالجزیرہ کے صحافیوں کا ردعمل
پاکستانی سیاست میں الزامات کا اونٹ کبھی کسی کروٹ نہیں بیٹھتا، سیاسی جماعتوں سے ہٹ کرحامی بھی مخالفین پر وارکرنے کا ہنربخوبی سیکھ گئے ہیں تو معروف شخصیات بھی اس ’ کارخیر’ میں پیش پیش ہیں۔
حال ہی میں معروف ممکری ( نقالی ) آرٹسٹ شفاعت علی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف پر مقبولیت کے لیے ‘لابنگ’ کروانے کاالزام عائد کیا گیا۔ شفاعت کی جانب سے شیئرکی جانے والی ویڈیوکے کیپشن میں کہا گیا ہے کہ یہ سب امریکا میں پی ٹی آئی کی لابنگ فرم کے زیراہتمام ہوا۔
ویڈیومیں میں الجزیرہ کی صحافی اقوام متحدہ کے ترجمان سے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں عمران خان سے متعلق سوال کرتی ہیں جس پروہ جواب میں بتاتے ہیں کہ سیکرٹری یواین جنرل سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف الزامات سے آگاہ ہیں اورانہوں نے ایک آزادانہ قانونی طریقہ کاراختیار کرنے پر زوردیا ہے۔
لابنگ فرم کے فوائد pic.twitter.com/RPioBHc02O
— Shafaat Ali (@iamshafaatali) August 23, 2022
اس ویڈیوکلپ میں الجزیرہ کی صحافی کےسوال پر’ پہلے سے لکھا گیا جواب“ پڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ شفاعت نے بھی کیپشن میں لکھا “ لابنگ فرم کے فوائد“۔
پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے اس ٹویٹ پرکیے جانے والے تبصروں میں ممکری آرٹسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم صحافی جمال خان نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے الجزیرہ کے دو صحافیوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ، “ یہ صاحب ( شفاعت ) آپ پرعمران خان کے لیے لابنگ کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں ، کیا آپ ان الزامات کی وضاحت کرسکتے ہیں؟ “۔
الجزیرہ انگلش نیویارک نمائندہ کرسٹن سالومے نے ان الزامات کو مضحکہ خیزقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن پاکستان الجزیرہ کی ٹاپ اسٹوریزمیں شامل تھا، اور میں نے اقوام متحدہ کا ردعمل جاننے کیلئے سوال کیا تھاجس کا ترجمان نےجواب دیا۔
That is ridiculous. Pakistan was one of AlJazeera's top stories that day. I asked for UN reaction. The spokesperson responded. I ask questions like this almost every day. It's my job. https://t.co/5K4zFuMt9p
— Kristen Saloomey (@KSaloomey) August 23, 2022
صحافی کے مطابق، “ میں تقریبا ہرروزاسی طرح کے سوالات پوچھتی ہوں اور یہی میرا کام ہے“۔
واشنگٹن ڈی سی میں الجزیرہ انگلش کے سینئرنمائندے ایلن فشر نے بھی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلانٹڈ سوالات نہیں تھے، ٹاپ نیوز ایجنڈا تھا اور ترجمان اقوام متحدہ ان سوالات کی توقع کررہے تھے۔
Absolute nonsense. No planted questions. It was near the top of the news agenda. The spokesman would be expecting a question. Pathetic attempt to smear a top class journalist https://t.co/6z5pHKssMB
— Alan Fisher (@AlanFisher) August 23, 2022
الجزیرہ کے صحافی نے شفاعت کی ٹویٹ کو چوٹی کے صحافیوں کی کردار کشی کی قابل افسوس کوشش قراردیا۔