Aaj Logo

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2022 12:45pm

منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب

لاہور کی خصوصی عدالت نے شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کرلئے۔

لاہور کی اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم شہبازشریف اورحمزہ شہبازکے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے جبکہ حمزہ شہبازکی طبیعت ناساز ہونے کے باعث حاضری معافی کی درخواست جمع کروائی گئی،جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

’حمزہ شہباز کو گاڑی میں بیٹھ کر ہی تو آنا تھا‘

حمزہ شہباز کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کو یہاں آنا چاہیئے تھا، گاڑی میں بیٹھ کر ہی تو آنا تھا، جس پر حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ان کی طبیعت خراب ہے، اگروہ ٹھیک ہوتے تو میں انہیں ضرور پیش کرواتا۔

شہبازشریف سے کوئی تعلق نہیں، امجد پرویز

کیس سے متعلق امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اکاؤنٹس کا شہبازشریف سے کوئی تعلق نہیں، 2 ارب 80 کروڑ روپے کا اکاؤنٹ ایف آئی آر میں شامل ہی نہیں کیا گیا، یہ اکاؤنٹ مشتاق چینی کا بے نامی اکاؤنٹ ہے، وہ وعدہ معاف گواہ ہے، مشتاق چینی بے نامی اکاؤنٹ پر کارروائی نہیں ہوتی، سلمان شہباز کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

عدالت نے کہا کہ سلمان شہباز کا کیا اپنے والد کے ساتھ تعلق نہیں تھا، آپ کہہ رہے ہیں سلمان شہباز کا والد اوربھائی سے لین دین نہیں تھا۔

جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی وہ کسی قسم کا بھی کاروبارکرنے میں خود مختار ہیں، میں نے اب تک آپ کے سامنے 3 اکاؤنٹس کی تفصیلات رکھیں، ایف آئی آر کا متن بتاتا ہے تمام اکاؤنٹس سلمان شہباز کی ٹرانزیکشن کے لئے کھولےگئے، میں سلمان شہباز کا نہ تو وکیل ہوں اورنہ ان کے لئے دلائل دے رہا ہوں۔

وکیل نے کہا کہ 3 کروڑ 95 لاکھ روپے کی رقم ایف آئی اے مانتا ہے، تمام رقم چینی فروخت کرکے حاصل نہیں کی گئی۔

وزیراعظم نے عدالت سے واپس جانے کی اجازت مانگ لی

سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آگئے اور کمرہ عدالت سے واپس جانے کی اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ میں عدالتی حکم پر پیش ہوا ہوں، میری اسلام آباد میں مصروفیات ہیں، میں جانا چاہتا ہوں عدالت اجازت دے۔

’میرے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا‘

وزیراعظم نے کہا کہ 20سال پنجاب کا وزیراعلی رہا، میرے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، بطور وزیراعلیٰ پنجاب ایسے فیصلے کئے جس سے خاندان کے چینی کے کاروبار کو نقصان پہنچا، میں نے چینی پر سبسڈی دینے سے انکار کر دیا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ بعد میں وفاقی حکومت نے پورے ملک میں 10 روپے کی سبسڈی دی،دوسرے صوبے کی جانب سے سبسڈی دینے پر مجھ پر بھی دباؤ آیا، میں نےعوام کا خزانہ بچایا اور سبسڈی دینے سے انکار کیا ، سابق حکومت نے عدالتوں کا وقت ضائع کیا۔

’اللہ کے بعد انصاف عدالت نے کرنا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ میں خطا کار انسان ہوں، اللہ کے بعد انصاف عدالت نے کرنا ہے، مشکل ترین حالات میں مجھے اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، پارٹی قائد نے سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچانے کی ذمہ داری دی۔

انہوں نے کہ میں نے ہمیشہ غریب عوام کو سبسڈی دی، سوچ بھی نہیں سکتا کہ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالوں، پیڑول کی قیمت اوپر جارہی ہے ملک میں سیلاب ہے، ہمارے لئے ایک ایک ڈالر قیمتی ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لئے مشکل فیصلے کئے، میں نے چینی کی ایکسپورٹ کی تمام سمریاں مسترد کردیں، ایکسپورٹ کی اجازت دیتا تو چینی مہنگی ہونے کا خدشہ تھا۔

عدالت کی شہباز شریف کو جانے کی اجازت

عدالت نے شہباز شریف کو جانے کی اجازت دے دی جس کے بعد وزیراعظم عدالت سے روانہ ہوگئے ۔

بعدازاں عدالت نے شہباز شریف کی بریت پر امجد پرویز ایڈووکیٹ کو دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اس سے قبل آج صبح شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی تو ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹرعدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ شہباز شریف کہاں ہیں، جس پرپراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ ان کے وکلا پہنچ چکے ہیں، شہباز شریف راستے میں ہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، پھر جب وہ آتے ہیں کیس شروع کرتے ہیں۔

شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر عدالت نے دونوں کو آج طلب کیا تھا کیونکہ گزشتہ سماعت پر اس کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ صفحہ مسل پر کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، یہ بریت کا کیس ہے آئندہ سماعت پر میں تفصیلی دلائل دوں گا۔

دائرکی گئی بریت کی درخواست میں کہا کہ ایف آئی اے نے حقائق کے برعکس چالان میں نامزد کیا، ملزمان کے خلاف کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے عدالت منی لانڈرنگ چالان سے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز بری کرنے کا حکم دے۔

Read Comments