Aaj Logo

شائع 11 اکتوبر 2022 02:57pm

فیکٹ چیک: سوات میں 10 سال بعد ایک اور ملالہ زخمی؟

گزشتہ روزخیبرپختونخواہ کے ضلع سوات میں اسکول وین پرفائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق اور 2 طلباء زخمی ہوگئے جس کے خلاف مینگورہ کالام روڈ پرلواحقین نے دھرنا دے رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پرتقریبا 9 سے 10 سال تک کی عمرکی ایک زخمی بچی کی تصویروائرل ہے جس کیلئے کہا جارہا ہے کہ یہ سوات کے علاقے گلی باغ میں پیش آنے والے واقعے میں زخمی طالبہ ہے۔ زخمی ہونے کے باوجود ہمت دکھاتی اس طالبہ کی جرات نے دیکھنے والوں کو ٹھیک 10 سال پہلے کا منظریاددلا دیا جب سوات میں ہی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو ٹھیک اسی نوعیت کے حملے میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

گزشتہ روزکے حملے میں زخمی ہونے والی بچی کی تصاویرشیئرکرنے والے صارفین سوات میں ایک بارپھرسے حالات کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بچی کی مسکراہٹ کو ملالہ جیسے ہمت وحوصلے سے تشبیہہ دہے رہے ہیں۔ لیکن میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق فائرنگ سے اسکول وین کا ڈرائیورجاں بحق اور 2 طالبعلم زخمی ہوئے تو پھر اس بچی کا تعلق سوات واقعے سے کیسے جوڑاجارہا ہے، اس حوالے سے آج ڈیجیٹل نے فیکٹ چیک کے ذریعے حقیقت کا پتہ لگایا۔

\

ایشال نامی یہ بچی دراصل لوئردیرمیں دشمنی کے نتیجے میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہوئی جس میں مخالف فریق کی فائرنگ کا نشانہ روڈ پرچلتی اسکول وین بن گئی۔

لوئردیر پولیس نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ دانوہ تیمرگرہ میں بچوں کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم گرفتارکرلیا گیا ہے۔

ڈی پی اولوئردیراکرام اللہ خان کے مطابق کل صبح 7:30 بجے دانوہ تیمرگرہ کے مقام پردو فریقین کے مابین معمولی مسئلے پر تکرار ہوئی، فریق اورل عبدالوہاب ولد غلام خان اور طارق وہاب ولد عبدالوہاب نے مخالف فریق علی ولد صبرخان پر فائرنگ کی،جس سے مخالف فریق بال بال بچ گئے لیکن روڈ پر چلتی سوزکی میں سوار اسکول کے بچے زد میں آگئے،تین بچے شدید جبکہ ایک بچی معمولی زخمی ہوئی جنہیں تیمرگرہ اسپتال پہنچایا گیا۔

پولیس نے فوری جائے وقوعہ پرپہنچ کر فائرنگ کرنے والے ملزمان کیخلاف دہشت گردی دفعات324/ppc/7ATA کے تحت تھانہ تیمرگرہ ایف آئی آر درج کرکے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کی اور مرکزی ملزم عبدالوہاب کواسلحہ سمیت گرفتارکرلیا جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔

واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ چند ماہ سے دہشتگردی کے مختلف واقعات رپورٹس ہورہے ہیں، اس سے قبل ستمبرمیں امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان پرکیے جانے والے حملے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

مزید پڑھیے: سوات فائرنگ: مذاکرات ناکام، دھرنا جاری، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

سال 2006 کے بعد سوات میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے دوران اسکولوں کو خصوصاً نشانہ بناتے ہوئے متعدد کو بم دھماکوں سے اڑادیا گیا تھا جبکہ 2009 میں طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پرمکمل پابندی عائد کیے جانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ہی ملالہ نےبرطانی نشریاتی ادارے میں گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھنے کا آغازکیا تھا۔

ملالہ کو 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آوازاٹھانے پراسکول سے واپس آتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا، بہترعلاج معالجے کیلئے برطانیہ منتقل کی جانے والی ملالہ نے صحتیابی کے بعد وہیں تعلیمی سلسلہ استوارکرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاست، اورمعاشیات میں ڈگری لی۔

اب ملالہ کا سب سے بڑاحوالہ 2014 میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنا ہے۔

Read Comments