Aaj Logo

شائع 23 اکتوبر 2022 09:04am

محنت کش سے ہمدردی کرنا صحافی کیلئے جرم بن گیا

وزیرآباد میں داد رسی کے لیے محنت کش کے ساتھ جانے والے صحافی کو جوئے کے جھوٹے مقدمہ میں نامزد کرلیا۔

محنت کش کے ساتھ اس کے پیسوں کی ریکوری کے لیے جانا صحافی کا جرم بن گیا۔

گکھڑ منڈی سے تعلق رکھنے والا صحافی آصف بٹ اپنے ایک دوست کے ہمراہ اس کے پیسوں کی واپسی کے لیے نواحی گاؤں گل والا گیا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد ایس ایچ او تھانہ احمد نگر چٹھہ حسن منج اور اے ایس آئی غلام مصطفیٰ گجر اپنی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور الزام عائد کیا کہ یہاں پر جواء ہو رہا ہے۔

اسی بنیاد پر پولیس نے صحافی آصف بٹ اور دیگر افراد کو حراست میں لے کر تھانہ احمد نگر چٹھہ منتقل کر دیا اور تمام افراد پر جوئے کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا۔

اس دوران ایس ایچ او حسن منج نے پلاٹ کی فروخت کے لیے موقع پر موجود 14 لاکھ روپے کی رقم بھی قبضہ میں لے لی، جبکہ اعلی ’ آفسران کو فقط 425000 روپے جوِئے میں برآمد کی گئی رقم کے طور پر بتائی گئی۔

پولیس نے آصف بٹ کو اپنا صحافتی تعارف کروانے پر غلیظ گالیاں دیں۔

آصف بٹ کی گرفتاری کے خلاف صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی جبکہ مظاہرین نے گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر پولیس اہلکاران کے خلاف ریلی نکالی اور نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے جی ٹی روڈ پر ہی مذمتی اجلاس بھی کیا، جس میں قرارداد پیش کی گئی کہ ایس ایچ او حسن منج اور اے ایس آئی غلام مصطفیٰ گجر کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

مظاہرین نے کہا کہ شفاف انکوائری نہ کرائی گئی تو احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیل جائے گا۔

Read Comments