Aaj Logo

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2022 03:28pm

’فوج کے آئینی کردار تک محدود ہونے پر آئندہ قیادت قائم رہے گی‘

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں بار بار کہا کہ فوج نے خود کو اپنے آئینی کردار تک محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں جرنیلوں سے سوال کیا گیا کہ کیا فیصلہ مستقل ہے یا کسی فرد تک ہے اور کیا فوج کی قیادت تبدیل ہونے کے بعد یہ فیصلہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

اس کے جواب میں جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج میں فیصلہ سازی کا ایک میکنزم موجود ہے جس کے تحت سینئر فوجی قیادت بیٹھتی ہے اور مختلف چیزوں پرغور کیا جاتا ہے۔ ”یہ کوئی ایک دفعہ کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ ادارے کا فیصلہ ہے اور انشا اللہ ادارے کی آنے والی قیادت بھی اس پر قائم رہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو بُک سے باہر ہو یہ آئین کا حصہ ہے۔“

جنرل ندیم انجم نے کہا کہ جب فوج کو آئینی کردار تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو بہت دن تک قیادت نے بحث کی اور ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد بحثیت ادارہ فیصلہ کیا گیا کہ فوج ائینی کردار تک محدود رہے گی ”آپ کو یہ معلوم ہو، جو اس فیصلے میں شامل تھے ان میں وہ لوگ تھے جو اگلے 15سے 20 سال تک اس ادارے کی قیادت سنبھالنے والے ہیں۔ لہذا یہ فیصلہ فرد واحد کا نہیں ہے۔“

جنرل ندیم انجم نے کہاکہ وہ پریس کانفرنس میں سامنے آنے پر اس لیے مجبور ہوئے کہ وہ دیکھتے تھے ایک طرف جھوٹ کی اتنی فروانی ہے کہ نوجوان ذہن اس کو قبول کرتے جا رہے جب انہوں نے دیکھا کہ جھوٹ کو جھوٹ ثابت نہیں کیا جاسکا تو وہ سامنے آئے۔

Read Comments