Aaj Logo

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2022 06:21pm

پی ٹی آئی حقیقی آزادی مارچ کہاں پہنچا

حقیقی آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ 19 نومبر 2022 کو روات کے مقام پر اختتام پذیر ہوگیا، قافلوں نے روات میں پڑاؤ ڈال لیا۔

روات سے کچھ ہی کلومیٹر دور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے جی ٹی روڈ، اسد عمر نے نارتھ پنجاب، پرویز خٹک نے پشاور، مراد سعید اور محمود خان نے مالاکنڈ ریجن سے مارچ کی قیادت جاری رکھی۔

چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان نے روات میں شکراء سے خطاب کیا اور 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی۔

حقیقی آزادی مارچ جمعہ 18 نومبر 2022 کو گوجر خان پہنچا تھا اور ہفتہ کے روز اسے راولپنڈی کے نواحی علاقے روات پہنچنا تھا۔

قافلہ جمعرات 3 نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان پر حملے کے بعد رک گیا تھا جس نے جمعرات کو یعنی ایک ہفتے بعد دوبارہ سفر شروع کیا۔

اس سے قبل مارچ گوجرنوالہ میں گوندلا والا اور چن دا قلعہ کے مقام پر رات میں رُکا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی جانب جا رہا تھا تاہم اب اس کی منزل راولپنڈی ہے۔ اس سفر جس کا آغاز جمعہ 28 اکتوبر کو لبرٹی چوک سے ہوا تھا۔

پہلے دن لانگ مارچ لاہورمیں ہی رہا۔ لبرٹی چوک سے لانگ مارچ فیروز پور روڈ، اچھرہ، مزنگ، ایم او کالج، جنرل پوسٹ آفس چوک اور داتا دربار سے مارچ آزادی چوک پہنچا۔ یہاں پہنچنے کے بعد مارچ کا پہلا دن مکمل ہو گیا۔ رہنما گھروں کو چلے گئے۔

لانگ مارچ دوسرے روز مرید کے سے ہوتا ہوا کامونکی پہنچنا تھا۔ شام چار بجے کے قریب عمران خان نے امامیہ کالونی کے قریب خطاب کیا۔ اس کے بعد مارچ کو پہلے مرید کے تک لے جانے اور پھر فیروزوالا پرروکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ہفتہ کو مارچ کو مریدکے میں روکنے کا فیصلہ تھا لیکن مرید سے پہلے ہی رچنا ٹاؤن میں پڑاؤ ڈال لیا گیا۔

قافلہ اتوار 30 اکتوبر کی شب مارچ کامونکی میں رک گیا تھا جہاں سے پیر کی صبح اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

آزادی مارچ کو اسلام آباد پہنچانے میں تاخیر کی حکمت عملی کیا ہے

کامونکی میں عمران خان کے خطاب کے بعد مارچ وہاں سے روانہ ہوا اور ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ ایمن آباد پہنچ گیا۔ یہاں پر پی ٹی آئی سربراہ نے مارچ سے خطاب کیا اور پھر چن دا قلعہ کے لیے روانہ ہوئے۔

اگلے تین دن گوجرانولہ میں گزارنے کے بعد مارچ آگے بڑھا تھا جب عمران خان پر حملہ ہوا حملہ ہوا۔

تین شہروں کا روٹ منسوخ

مارچ کے راستے میں ڈسکہ، سیالکوٹ اور سمبڑیال بھی تھے تاہم حملے سے پہلے ہی یہ روٹ منسوخ کردیا گیا۔ پارٹی قیادت نے مارچ کو جی ٹی روڈ پر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

مارچ وزیر آباد سے ہوتا ہوا گجرات پہنچا ۔ جس کے بعد لانگ مارچ لالہ موسیٰ کھاریاں سے جہلم آیا۔ جہلم اور دینہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جہلم پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا آبائی علاقہ ہے۔

راولپنڈی آمد

لانگ مارچ گوجر خان سے راولپنڈی میں داخل ہوگا جبکہ ملک بھر سے قافلے بھی اسی دن راولپنڈی پہنچیں گے۔ شروع میں جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق مارچ نے 4 نومبر کو راولپنڈی پہنچنا تھا تاہم اب اس میں دو ہفتے سے زائد کی تاخیر ہوچکی ہے۔

مارچ کے راولپنڈی پہنچنے کی تاریخ 26 نومبر دی گئی ہے۔

فواد چوہدری نے گذستہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ عمران خان تیسرے ہفتے راولپنڈی پہنچ کر مارچ کی قیادت کریں گے۔ تاہم اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسٹیج پر نہ آئیں۔

Read Comments