ٹانگ کی شہ رگ، زرتاج گل کا واک آؤٹ اوردسمبرکی 33 تاریخ
ہمارے سیاسی رہنماؤں سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جوش خطابت میں کیا کچھ فرما دیں ، ٹوئٹر پروائرل ان ویڈیوزسے تو کم ازکم ایسا ہی ظاہرہوتا ہے کہ میڈیا نمائندوں سے بات کرنے سے قبل تیاری پوری کر کے آنا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر سے کنٹینرپرفائرنگ میں زخمی عمران خان کی حالت سے متعلق دریافت کیا گیا تو ان کا فرمانا تھا کہ ، ”خان صاحب اب بالکل ٹھیک ہیں، گولی ان کی ٹانگ کی شہ رنگ سے صرف چند سینٹی میٹردورجا کررُکی ہے“۔
اگرآپ کو یہ جملہ نہیں کھٹک رہا تو جان لیجئے کہ شہ رگ کا محل وقوع قطعی طورپرٹانگ ہرگز نہیں ہے۔ یہ گردن کی ایک ایسی مرکزی رگ ہوتی ہے جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے کٹنے سے فوری موت واقع ہوسکتی ہے۔
ایسا توہونہیں سکتا کہ ”غلطی سے مسٹیک“ والی صورتحال میں صارفین کی رگ ظرافت نہ پھڑکے، سو یہاں بھی فوراً سے تجزیوں و تبصروں کا آغازکردیا گیا۔
دوسری وائرل ویڈیو بےساختہ آپ کے لبوں پرمسکراہٹ بھی لاسکتی ہے اورسیاسی وابستگی کےتناطرمیں صورتحال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے کیونکہ قائد ن لیگ میاں نوازشریف کی پاکستان واپسی کی جو تاریخ بتائی جارہی ہے وہ وجود ہی نہیں رکھتی۔
صحافی کے سوال کے جواب میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر کھڑے صاحب کا فرمانا ہے کہ ، ”میاں صاحب کی واپسی کنفرم ہوگئی ہے، انشاء اللہ آپ کو میں اچھی خبردے رہاں ہوں ۔۔ دسمبرکی 33 تاریخ کو میاں صاحب جارہےہیں، ٹکٹیں اوکے کروالی ہیں“۔
اس 33 دسمبرنے بھی سوشل میڈیا پرخوب دھوم مچائی اور صارفین نے اپنی اپنی جماعت کی حمایت میں کیے جانے والے تبصروں میں طعنے تشنے دے کر بات پھرسے شہ رگ تک پہنچادی۔
ایک اور ویڈیو پی پی رہنما زرتاج گل کی بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ عمران خان پرحملے کیخلاف ملک گیراحتجاج کے سلسلے میں اپنے شہرڈیرہ غازی خان میں احتجاجی ریلی کی قیادت کررہی ہیں۔
زرتاج گل کے ہمراہ چلنے والے ان سے آگے نکلتے ہیں جس پر قدرے جھنجھلا کرریلی سے ہی واک آؤٹ کرجاتی ہیں۔
صارفین نے اس ویڈیو پرردعمل میں ان کے ہمراہ چلنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ ممکنہ طور پرحکومت مخالف نعروں کے دوران سیاہ لباس میں ملبوس پارٹی رہنما کی کہنی پیچھے آتی زرتاج گل کی ناک پرلگی جس کے بعد انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
تاہم کئی سیاسی مخالفین نے پی ٹی آئی رہنما کے اس اقدام کو بچکانہ طرزعمل قراردیا۔