Aaj Logo

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2022 10:41pm

روس کا وعدہ، کیا پاکستانیوں کو سستا پیٹرول فوری ملے گا

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے اپنے دورہ روس کے بعد اعلان کیا ہے کہ حکومتِ ماسکو، پاکستان کو سستے داموں خام آئل اور اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔ وزیر مملکت کے اس اعلان کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستانی نسبتاً سستے داموں پیٹرول خرید پائیں گے لیکن ایسا کب تک ہوگا؟

وزیر مملکت نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ روس نے سستے داموں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات دینے پر ”اصولی اتفاق“ یعنی in principle اتفاق کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا۔

مصدق ملک کے مطابق روسی وزارت توانائی کے حکام جنوری کے وسط میں میں پاکستان آئیں گے اور اس دورے میں تیل کی خریداری کے سودے پر بات چیت ہوگی۔

اگر جنوری میں مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو بھی روس سے تیل کی درآمدات میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ وہ بھی اس صورت میں کہ روس پیٹرول اور ڈیزل کی تیار مصنوعات کی فراہمی فوری شروع کرے۔ پاکستان کی ریفائنریوں کو روسی خام تیل کو صاف کرنے کے قابل بنانے کیلئے مزید وقت درکار ہوگا۔

روسی تیل کتنا سستا

پاکستانی وفد کا دورہ روس اس اعتبار سے انتہائی کامیاب رہا ہے کہ روس نے بات چیت پر آمادگی شروع کی۔ گذشتہ دنوں بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ اور بھارت کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے سستے داموں پاکستان کو خام تیل فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

عالمی منڈی میں اس وقت تیل اور قدرتی مائع گیس یعنی ایل این جی کی قیمت بڑھنے کا سبب مغربی ممالک کی جانب سے روسی تیل اور گیس کے سودوں کا بائیکاٹ ہے۔ اس کے باوجود بھارت سمیت کئی ممالک روس سے خام تیل نہ صرف خرید رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی درآمدات بڑھا دی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی سیون نے ان ممالک کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ روس سے تیل درآمد کر لیں بشرطکیہ کہ اس کے لیے 60 بیرل فی ڈالر سے کم ادائیگی کریں۔ 60 ڈالر فی بیرل کی کیپ کو روس اپنے مفادات پر حملہ تصور کرتا ہے اور اس سے کم نرخوں کو تیل فروخت کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

تاہم اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت پہلے ہی 80 سے 85 ڈالر کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ مارچ میں یہ قیمت 130 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔

اس صورت حال میں روس کی جانب سے پاکستان کو 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے پر خام تیل فروخت کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

مصدق ملک نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ نہیں بتایا کہ روس خام تیل کی قیمت کیا ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس نرخ پر روس باقی دنیا کو دے رہا ہے پاکستان کے لیے نرخ اس سے 10 فیصد کم ہوں گے۔ اس اعتبار سے یہ رقم 57 ڈالر بنتی ہے۔

عالمی منڈی میں اس وقت روسی خام تیل جسے اورالز کہا جاتا ہے کی قیمت 63 ڈالر فی بیرل ہے۔ ٓ

اگر پاکستانی روپوں میں دیکھیں تو یہ لگ بھگ چالیس روپے فی لیٹر کا فرق ہے۔

Read Comments