Aaj Logo

اپ ڈیٹ 02 جنوری 2023 04:00pm

اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کیخلاف الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں قابل سماعت قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپیلیں قابل سماعت قرار دے دیں۔

پیر کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

عدالت میں وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی ٹیم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی پیش ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ حکومت آخری وقت میں بل لائی حکومت یہ سب پہلے بھی کرسکتی تھی، ہر ایک نے اپنا کام قانون کے دائرے میں رہ کرکرنا ہے، ہم غور کر رہے ہیں آئینی باڈیز کو ہدایات دے سکتے ہیں یا نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے ایک فیصلہ کیا اُسے کالعدم قراردیا گیا، عدالت نے فیصلے کو میرٹ پر دیکھنا ہے۔

ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے27 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات مؤخر کیے، اٹھائیس دسمبر کو یونین کونسل سے متعلق فیصلہ دیا گیا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ سے یونین کونسلز بڑھانے کا بل پاس ہونے کا بتایا تو چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ بل تو ابھی تک ایکٹ بنا ہی نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ ایک بل کی بنیاد پر تو الیکشن ملتوی نہیں ہوسکتا، کیا 27 دسمبر کو صدر نے بل پر دستخط کردیے تھے؟

وکیل الیکشن کمیشن نے انکار میں جواب دیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے 19 دسمبر کا نوٹیفیکیشن چیلنج نہ ہونے کا مؤقف اپنایا تو جسٹس عامر فاروق بولے نوٹیفیکیشن چیلنج ہوا ہے، پٹیشن عدالت کے سامنے ہے مدعہ پر دلائل نہیں دے رہے، الیکشن کمیشن اور وفاق کیس کیلئے تیار نہیں ہیں، بے بنیاد قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔

جسٹس عامرفاروق نے مزید ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو ہائیکورٹ ہدایات جاری نہیں کرسکتی، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں یہ اصول طے ہوا تھا۔

چیف جسٹس نے سوال کیاکہ الیکشن اچانک ملتوی ہو جائیں تو قانون کیا کہتا ہے؟ اگر انتخابات نئی حلقہ بندیاں کے مطابق ہوں تو کتنا وقت درکار ہوگا؟

ڈی جی لاء نے بتایا کہ نئی حلقہ بندیوں کیلئے 120 دن درکار ہوںگے۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں نہیں چیلنج ہوا؟ استدعا میں اس نوٹی فکیشن کا واضح لکھا ہوا تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آج کے موجودہ قانون میں تو اب الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول ہی دینا ہے نا؟ کیا الیکشن کمیشن 101 یونین کونسلز پر انتخابات کیلئے تیار ہے؟

جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اگر الیکشن 101 یوسیز میں ہوتا ہے تو پھر ہمیں صرف نیا شیڈول دینا ہے۔

سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے نو جنوری کو جواب طلب کر لیا۔

Read Comments