Aaj Logo

شائع 04 جنوری 2023 11:51am

سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے قبل خلاف ضابطہ تقرریوں وتبادلوں کا فیصلہ واپس لینے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی ایڈمنسٹریٹرزکی تعیناتی کے معاملے پرالیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد تمام تقرریوں اورتبادلوں کاجائزہ لینےکاحکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں اور شہری خادم حسین کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد تقرریاں غیرقانونی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ الیکشن شیڈول کے بعد تبادلے نہیں ہوسکتے جس پروکیل کا کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تبادلے تقرریاں منسوخ کی جائیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیا کہتا ہے ؟ ایڈمنسٹریٹرز کا کیا اسٹیٹس ہے جنہیں چیلنج کیا گیا؟۔

جواب میں ایڈووکیٹ شہاب امام نے کہا کہ کچھ افسران کوڈیپوٹیشن پرلاکر تعینات کردیا گیا۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کی جانے والی تمام تقرریوں اورتبادلوں کاجائزہ لینےکاحکم دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے اس حوالے سے صوبائی حکومت سے 9 جنوری کو رپورٹ طلب کرلی ہے۔

دوسری جانب سماعت سے قبل عدالت پہنچنے والے پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر علی زیدی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن نہ کروا کر غلطی کی، حکومت میں آتے ہی بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتے تھے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جنہوں نے متحد ہونا ہے وہ جلدی سے مل جائیں، پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہی شہید ہوگئی تھی۔

انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حلف یافتہ لوگوں کو ایڈمنسٹریٹر لگا دیا گیا، عدالت نے تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا۔ یہاں ہر سال 2ٹانگوں والے چوہے لاکھوں ٹن گندم کھا جاتے ہیں، سندھ حکومت نے تو بارش کوبھی رحمت سے زحمت بنا دیا۔

Read Comments