Aaj Logo

شائع 21 جنوری 2023 07:22pm

ڈیووس فورم پر طوائفوں کی طلب بڑھ گئی، بزنس سوٹ پہننا ضروری

سوئٹرزلینڈ کا قصبہ ڈیووس دنیا کے کچھ طاقت ور اور بااثر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مشہور ہے، کیونکہ یہاں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) اجلسا کا انعقاد کیا جاتا ہے، لیکن یہ پانچ روزہ اجلاس ممالک کے علاوہ ایک مخصوص پیشے کیلئے کافی سود مند ثابت ہوتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس شروع ہوتے ہی ڈیووس جسم فروش مردوخواتین (طوائفوں) کا گڑھ بن جاتا ہے اور دنیا بھر سے ہائی کلاس ایکارٹس یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

ڈیووس ان مردوخواتین کیلئے انتہائی منافع بخش کاروبار فراہم کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ورلڈ اکنام فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران ”اس قسم کی“ خدمات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ کاروباری لیڈرز، سیاست دان اور دیگر اشرافیہ سوئس سکی ریزورٹ ٹاؤن میں جمع ہوتے ہیں۔

ان ایسکارٹس کو اسی ہوٹل میں بُک اور چیک اِن کیا جاتا ہے جس میں مندوبین ہوتے ہیں۔

ڈیلی میل نے ایک جسم فروش افراد کے حوالے سے بتایا کہ بہت سے لوگ اپنے ملازمین کے ساتھ اپنے سوئٹ میں پارٹی کے لیے بکنگ کرتے ہیں۔

اسی پیشے سے وابستہ ایک خاتون اور مصنف سلوم بالتھس نے بتایا کہ سال میں کئی بار باقاعدگی سے سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرنے والا ان کا ایک امریکی کلائنٹ کانفرنس کے 2,700 شرکاء میں سے ایک ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر یہ بھی پوسٹ کیا، ”ورلڈ اکنامک فورم کے دوران سوئٹزرلینڈ میں ’ڈیٹ‘ کا مطلب ہے کہ رات کے 2 بجے ہوٹل کے کوریڈور میں سیکیورٹی گارڈز کی بندوقوں کی نالیاں دیکھنا اور پھر ان کے ساتھ ریسٹورنٹ سے تحفے میں ملنے والی چاکلیٹس بانٹنا اور امیروں کے بارے میں گپ شپ کرنا۔“

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق، بزنس سوٹ میں ملبوس ایک جسم فروش ایسکارٹ ایک گھنٹے کے لیے تقریباً 760 ڈالر اور پوری رات کے لیے 2,500 ڈالر کے علاوہ سفری اخراجات تک وصول کرتے ہیں۔

ایک ایسکارٹ سروس کے مینیجر نے یہ بھی کہا کہ انہیں پہلے ہی 11 بکنگ اور 25 مطالبات موصول ہو چکے ہیں اور اس ہفتے ان میں مزید اضافے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جسم فروشی قانونی ہے۔

Read Comments