Aaj Logo

شائع 31 جنوری 2023 11:33am

کراچی پولیس اپنے ہی لاپتہ اہلکار کو 6 سال سے ڈھونڈنے میں ناکام

سندھ پولیس 6 سال سےلاپتہ اپنے پولیس کانسٹیبل کوہی تلاش کرنےمیں ناکام رہی، لاپتہ اہلکار کے بیوی بچوں نے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

لاپتہ اہلکار کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ میراحمد خان سندھ سیکٹریٹ میں سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتا تھا اور 2012سےسندھ پولیس میں تعینات تھا۔ وہ 2015 میں لاپتہ ہوا جس کی درخواست دے چکے ہیں لیکن پولیس نے ڈھونڈنےکی بجائےنوکری سے ہی نکال دیا۔

اہلکار کے اہلخانہ نے درخواست میں یہ بھی بتایا کہ 2015 سے تنخواہ نہیں دی جارہی۔

درخواست کی سماعت جسٹس اقبال کلہوڑو نے کی، لاپتہ اہلکارکے بچوں کا کہنا تھا کہ ہمارے والد کو تلاش بھی نہیں کیا گیا اورملازمت سے بھی نکال دیا گیا۔

عدالت نے وکیل سرکاراور پولیس حکام پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے ہی ڈپارٹمنٹ کےلاپتہ کانسٹیبل کو6 سال سےتلاش نہیں کرسکے، آپ سب کوجیل بھجنےکاوقت آگیاہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا شرمندہ ہونے کے بجائےآپ نے27سال سروس پوری کرنے والے کونوکری سےبھی نکال دیا، کون لاپتہ کانسٹیبل کوڈھونڈ کرلائےگا؟۔

عدالت کے استفسارپروکیل سرکارنے جواب دیا کہ ہم نےاہل خانہ سےجواب مانگا لیکن جواب نہیں ملا،، اس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ آپکوکچھ معلوم ہی نہیں؟خودافسران بڑی بڑی ویگومیں پھرتےہیں اوریہ لوگ دھکےکھانے پرمجبور ہیں اوپرسےآپ نےنوکری سےنکال کرذریعہ آمدن بھی چھین لیا۔

لاپتہ کانسٹیبل کے6 سالہ بیٹے ابوبکرکی موجودگی پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچےکوعدالت نا لیکرآئیں اسےاسکول بھیجیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے پولیس ڈپارٹمنٹ کو ایک ہفتہ کی مہلت دیتےہوئےجواب طلب کرلیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ اطمینان بخش جواب ناملنے کی صورت میں سخت حکم جاری کیا جائےگا۔

Read Comments