Aaj Logo

شائع 31 مارچ 2023 09:42am

بدنام زمانہ منشیات اسمگلرکے دریائی گھوڑے بھارت کے حصے میں

کولمبیا نے بدنام زمانہ منشیات اسمگلرپابلو ایسکوبار کے زیرملکیت رہنے والے 70 ہپوز (دریائی گھوڑے) کو بیرون ملک پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوکین کا تاجر اسکوبار 1980 کی دہائی کے آخر میں افریقی جانوروں کی ایک چھوٹی سی تعداد کولمبیا لایا تھا۔ لیکن 1993 میں اس کی موت کے بعد ان جانوروں کو اینٹیوکیا خطے کے ایک گرم، دلدلی علاقے میں آزادانہ گھومنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، جہاں ماحولیاتی حکام ان کی بڑھتی تعداد روکنے میں بے بس رہے جو اب 150 ہوچکی ہے۔

کولمبیا کی پولیس کی جانب سے پابلو اسکوبارکی ہلاکت کے بعد سے اس کا ہیسیانڈا نیپولس اورہپپو مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ پابلو کے بعد ہپوزمقامی ندیوں اور سازگار آب و ہوا کے سازگار حالات میں جنم لیتے رہے، ان ہپوز کا وزن 3 ٹن تک ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ کولمبیا میں ہپوز کا کوئی قدرتی شکاری نہیں ہے اور یہ حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک ممکنہ مسئلہ ہے کیونکہ ان کے فضلے دریاؤں کی ساخت کو تبدیل کرتے ہیں اور مینیٹس اور کیپبارا کی رہائش کو متاثر کرسکتے ہیں۔

گزشتہ برس کولمبیا کی حکومت نے ان بڑے جانوروں کو زہریلا حملہ آور قرار دیا تھا۔ حکام نے آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے نس بندی پروگرام کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

منصوبے کے تحت 60 ہپوز کو بھارتی ریاست گجرات میں واقع ’گرینز زولوجیکل ریسکیو اینڈ ری ہیبلیٹیشن کنگڈم‘ بھیجا جائے گا جبکہ مزید 10 میکسیکو کے چڑیا گھروں اور پناہ گاہوں جیسے کہ سینالوا میں واقع اوسٹوک جائیں گے۔

اس پورے آپریشن پر تقریباً 35 لاکھ ڈالرز لاگت آئے گی۔

ان دریائی گھوڑوں کیلئے یہ فیصلہ زندگی بچانے والے اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ وزارت ماحولیات نے انہیں مارنے پر نظر کھی ہوئی ہے۔ ایکواڈور، فلپائن اور بوٹسوانا نے بھی ہپوز کو لینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ پابلو دنیا کے بدنام ترین افراد میں سے ایک تھا جو کولمبیا میں منشیات سے متعلق ہلاکتوں اور بم حملے کی غیر معمولی تعداد کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

ایسکوبار اپنی 44 ویں سالگرہ کے ایک دن بعد 2 دسمبر 1993 کو میڈیلن میں پولیس اور فوجیوں کے ساتھ چھت پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوا تھا۔ پانچ ماہ قبل وہ فوربز میگزین کی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں ساتویں بار شامل کیا گیا تھا۔

Read Comments