Aaj Logo

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2023 08:16pm

صدر مملکت نے عدالتی اصلاحاتی بل دستخط کیے بغیر واپس بھیج دیا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریمکورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل دستخط کیئے بغیر پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر علوی نے کہا کہ بل کی درستگی کا معاملہ عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے، لہٰذا معاملہ زیر سماعت ہونے کے احترام میں بل پر مزید کارروائی مناسب نہیں۔

عدالتی اصلاحات سے متعلق یہ بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل صدر مملکت کو دستخط کے لئے دوبارہ بجھوایا گیا تھا، مذکورہ بل 20 اپریل کو خود ہی ایکٹ کی صورت اختیار کرجائے گا۔

اس سے قبل بھی صدر عارف علوی نے عدالتی اصلاحاتی بل آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظرثانی کے لئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا تھا۔

دوسری جانب چند روز قبل سپریم کورٹ عدالتی اصلاحاتی بل عملدرآمد سے روک چکی ہے، عدالت عظمیٰ کی 8 رکنی فل بینچ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل عملدرآمد سے روکنے کا حکم جاری کیا۔

Read Comments