Aaj Logo

اپ ڈیٹ 06 جون 2023 11:09pm

توانائی بچت پلان: ملک بھر میں دکانیں، کمرشل ایریاز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے توانائی بچت پلان کے تحت ملک بھر میں دکانیں اور کمرشل ایریاز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل اجلاس ہوا جس میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی جبکہ بلوچستان کے وزیر منصوبہ بندی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

توانائی بچت پلان قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا گیا، جس میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس فیصلے سے سالانہ 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی بچت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ملک بھر میں مارکیٹیں جلد بند کرنے سے 28 لاکھ 50 ہزار یونٹ بجلی بچے گی۔

توانائی بچت پلان کے تحت عام بلب کے استعمال پر پابندی کی بھی تجویز ہے، جس کے ذریعے 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی بچت متوقع ہے، عام بلب کے استعمال پر پابندی سے ایک ارب یونٹ بجلی کی بچت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق واٹر گیزر کی مد میں 41 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے ڈسکوز اور گیس کمپنیوں کیلئے لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ قومی انرجی بچت پلان پر عمل درآمد کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل نے وفاق اور صوبوں کو قومی توانائی بچت پلان پر عملدرآمد کی ہدایت کردی۔

احسن اقبال کی بریفنگ

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل میں تمام صوبوں کی نمائندگی میں صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد یکم جولائی سے رات 8 بجے تمام دکانیں بند کرنے کی منظوری دی، توانائی پر ہمارے سب سے زیادہ اخراجات آتے ہیں، اگر ہم ان کو کنٹرول کرلیں گے تو بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے توانائی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے، اگر ہم فیول اور تیل کے اوپر انحصار کریں گے تو ہماری معیشت اسی طرح خطرات میں گھری رہی گی، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ 2 طرح کے اقدامات کیے جائیں، ہم توانائی کی بچت کریں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انرجی کو بچانے کے لیے دکانوں اور کمرشل سینٹرز کو رات 8 بجے بند ہونا چاہیے، اسی طرح جو لائٹس ہیں، پرانے بلب ہیں، ان کو ختم کرکے ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال کیا جائے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ایسے اقدامات سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں، امید ہے صوبائی حکومتیں توانائی بچت کا جو پیکج منظور ہوا ہے، اس پر عمل در آمد کروائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں گرین انرجی کو فروغ دیں گے جیسے سولر انرجی، ہائیڈرل انرجی اور ونڈ انرجی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا اور آئندہ ہم کوئی درآمد کردہ فیول پر توانائی کا کوئی نیا منصوبہ نہیں لگائیں گے۔

تاجروں نے کاروبار رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا

دوسری جانب تاجروں نے وفاقی حکومت کی جانب سے کاروبار کو رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران نے حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت 8 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

صدر آل پاکستان انجمن تاجران ا جمل بلوچ کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گرمی میں دکانیں رات 8 بجے کسی صورت بند نہیں کریں گے ہر حکومت دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کی ناکام پریکٹس کر چکی ہے، گرمی کے موسم میں دن میں کوئی خریداری نہیں ہوتی گرمی کے موسم میں خریداری صرف رات 8 بجے سے رات 11 بجے تک ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تاجر ملک میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی خریدتا ہے کہاں کی عقل مندی ہے توانائی بچانے کی خاطر معاشی پہیہ روکا جا رہا ہے، حکومت توانائی بچانے کے لیے مفت میں چلنے والی بجلی بند کرے اورحکمران اپنے ائیرکنڈیشن بند کریں ہر گھر کا پنکھا چلے گا، بدقسمتی کی انتہا ہے توانائی بچانے کی بات یا وزیر دفاع کرتا ہے یا وزیر منصوبہ بندی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر توانائی کو چاہیے تاجر نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔

Read Comments