Aaj Logo

شائع 08 جون 2023 06:43pm

وزیراعلی بلوچستان قدوس بزنجو کا وفاقی بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان

وزیراعلی بلوچستان میر قدوس بزنجو نے وفاقی بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی وفاقی بجٹ سیشن کا حصہ نہیں بنے گی۔

وفاقی میں حکومت کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے مرکزی صدر اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر قدوس بزنجو نے وفاقی بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ اور اس حوالے سے میر عبدالقدوس بزنجو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی وفاقی بجٹ سیشن کا حصہ نہیں بنے گی، اور ہمارے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز وفاقی بجٹ سیشن میں شرکت نہیں کریں گے۔

مرکزی صدر بی اے پی نے یہ بھی کہا کہ اپنے اراکین قومی اسمبلی و سینٹ کو اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی واضع ہدایات جاری کردی گئی ہیں، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے رکن قومی اسمبلی و سینٹ کے خلاف انضباطی کاروائی کر کے ڈی سیٹ کر دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ این ای سی کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی مرکزی حکومت کے رویے کی وجہ سے کیا تھا اور بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کی وجہ بھی وفاقی حکومت کی بلوچستان کے لئے سرد مہری ہے، ۔

وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہماری وفاقی حکومت سے کوئی پر خاش نہیں، ہمارے اختلاف کی وجہ اصولی ہے، ہمارا صوبہ شدید مالی مسائل کا شکار ہے، اور ان مسائل کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کا عدم تعاون ہے، وفاق کی جانب سے بارہا رابطوں اور یاد دہانیوں کے باوجود ہمیں ہمارا آئینی حق نہیں دیا جارہا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت وعدے اور یقین دہانیاں تو کراتی ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، بلوچستان کی ترقی اور پسماندگی دور کرنے کے لیے اسلام آباد میں بیٹھ کر صرف باتیں کی جاتی ہیں، لیکن صوبے کے زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں، یہاں عملی اقدامات کی ضرورت ہے، آصف علی زردای، مولانا فضل الرحمان، سردار اختر جان مینگل اور صوبے کے دیگر قومی لیڈروں سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے مؤقف کو تقویت دیں۔

میر قدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبے آئینی بنیاد پر ہیں کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے، پی پی ایل کئی سالوں سے ہمارے واجبات ادا نہیں کررہی، جو 45 ارب روپے سے زائد تک پہنچ چکے ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ بلوچستان سے کسی معاہدے کے بغیر سوئی گیس فیلڈ میں پی پی ایل کا آپریشن جاری ہے، پی پی ایل کمپنی کا انتظامی اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، وفاقی حکومت واجبات کے ادائیگی میں نہ تو کوئی دلچسپی لے رہی ہے اور نہ ہی اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل بلوچستان کے منصوبے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے عدم تکمیل کا شکار ہیں، ان منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا نصف بھی جاری نہیں کیا جاتا، صوبے کے وفاقی منصوبوں کے ٹینڈر تو ہوتے ہیں لیکن فنڈز کہیں اور منتقل کر دیۓ جاتے ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سیلاب میں بلوچستان کی قومی شاہراہوں کو شدید نقصان پہنچا، این ایچ اے نے ان شاہراہوں کی بحالی کے لئے کوئی کام نہیں کیا، ان شاہراہوں پر سفر کر کے محسوس ہوتا ہے کہ ہم پھر سے پتھر کے زمانے میں پہنچ گیے ہیں، کراچی کو کوئٹہ اور سینٹرل ایشیاء سے منسلک کرنے والی شاہراہ کے 8 پل سیلاب میں بہہ گیے تھے، لیکن ایک سال گزر جانے کے بعد بھی متبادل کچے راستوں سے گاڑیاں گزرتی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے ایک سال قبل وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں چمن کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا، اور کیا تھا کہ 18 ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس منصوبہ کا 20 فیصد کام بھی نہیں ہوا، اور جس رفتار سے کام جاری ہے اور فنڈز دیے جا رہے ہیں یہ منصوبہ 18 ماہ تو کیا 18 سال میں بھی مکمل نہیں ہو گا۔

قدوس بزنجو نے مزید کہا کہ این ایف سی کا ہمارا شئیر بروقت نہیں ملتا اور اس میں کٹوتی بھی کی جاتی ہے، وزیراعظم کی جانب سے سیلاب کے دوران اعلان کردہ 10 ارب روپے بھی نہیں دیے گئے۔ 1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر ساتواں این ایف سی ایوارڈ اپنی مدت پوری کر چکا، ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کی بنیاد آبادی تھی، حالات کی خرابی کے باعث بلوچستان میں 1998 کی مردم شماری نامکمل رہی، جس کا نقصان ہمیں وسائل کی تقسیم میں ہوا، ہمارا مطالبہ ہے کہ نیا این ایف سی ایوارڈ فوری طور پر کیا جائے جو آئینی تقاضہ بھی ہے، نئی مردم شماری کے مطابق نیا این ایف سی ایوارڈ نہ ہونے سے بلوچستان کو سالانہ 10 ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے مطالبہ کرتے ہوئے تنبہہ کی کہ وفاقی حکومت ہمارے مطالبات اور موقف کو سنجیدگی سے لے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وفاق اور صوبے میں پیدا خلیج مزید بڑھے گی جو وفاق کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، بلوچستان کا استحصال کسی صورت قبول نہیں، اپنے جائز آئینی موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں ہم ان کے حقوق کے حصول سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Read Comments