Aaj Logo

اپ ڈیٹ 09 جون 2023 10:24pm

اسحاق ڈار نے 7570 ارب خسارے کے ساتھ 14460 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کا 14 کھرب 460 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ کا خسارہ 7570 ارب روپے ہے جو جی ڈی پی کا 6.5 فیصد بنتا ہے۔

معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ، مہنگائی کی شرح 21 فیصد تک ہوگی، ایف بی آر کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 92 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا وفاقی حکومت کی کل آمدنی کا تخمینہ 6887 روپے ہے۔ مجموعی اخراجات کا اندازہ 14460 ارب روپے ہے، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مجموعی طور پر 1150 ارب روپے خرچ ہوں گے، بجلی، گیس اور دیگر شعبوں پر سبسڈی کی مد میں ایک ہزار 74ارب روپے مختص، آئندہ مالی سال برآمدات 30 ارب ڈالر ہوں گی، کراچی میں پینے کے پانی کے منصوبے کے فور کے لئے ساڑھے 17 ارب روپے مختص، ، ایک لاکھ افراد کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، اوورسیز پاکستانیوں کو خصوصی مراعات دینے کا اعلان، پچاس ہزار سے زائد ڈالر بھجوانے والوں کو ڈائمنڈ کارڈ جاری کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خدائے برزگ و برتر کا شکر گزار ہوں، اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 2018 میں معاشی ترقی 6.1 فیصد پر پہنچ چکی تھی، مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4 فیصد پر آچکی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کا ریکارڈ قائم کر چکے تھے، 12 سے 16 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات ملی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ 2018 تک خوشحالی کا دور تھا، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا، تھری ایز ہمارا مشن تھا لیکن پھر منتخب حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بچھادیے گئے، ملک مشکل مراحل سے گزر رہا ہے، صورتحال کی اصل ذمہ دار سابق حکومت ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کبھی پاکستان کی معیشت دنیا میں 5 ویں نمبر پر تھی، پاکستان خوشحالی کے راستے پر گامزن تھا، پھر 2022 میں یہی معیشت 47 ویں نمبر پر آگئی، آج کی خراب معاشی صورتحال کی اصل ذمہ دار پی ٹی آئی کی سابق حکومت ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل اہم تھی، لیکن سابق حکومت نے پروگرام کو جان بوجھ کر خراب کیا، سابقہ حکومت کے وزیرخزانہ نے فون کر کے 2 صوبائی وزراء خزانہ سے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل نہ کرو۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حالات کی ذمہ داری نئی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی، ان کو یقین تھا کہ پاکستان کو کوئی دیوالیہ ہونے سے نہیں بچا سکے گا، اس وقت مشکل فیصلے کیے جارہے ہیں، لیکن دشمنوں کے عزائم پورے نہیں ہورہے، حکومت نے مشکل فیصلوں سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا،اور سیاست نہیں ریاست بچاؤ پالیسی پر عمل کیا، اور سازشی عناصر کو بھی عوام کے سامنے بے نقاب کردیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں مالی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا، شرح سود میں اضافے سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا، سابق حکومت کے 4 سال میں قرضوں میں 98 فیصد اضافہ ہوگیا، موجودہ حکومت نے کفایت شعاری سے کام لیا، اَن ٹارگٹڈ سبسڈی کو کسی حد تک کم کیا، بجٹ خسارے میں 1 فیصد کمی ہوئی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ 9 مئی کو رونما ہونے والے شرمناک واقعات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، دفاعی تنصیبات کو بریت کا نشانہ بنایا گیا، ایسے عناصر نرمی کے حقدار نہیں، ایسے عناصر کو سخت سزائیں دی جانا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت کو معیشت کو اندرونی و بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سیلاب کی ناگہانی کا سامنا کرنا پڑا، سیلاب سے نقصانات کا اندازہ 30 ارب ڈالر ہے، عالمی خوراک کی قیمتوں میں 14.3 فیصد اضافہ ہوا، روس یوکرین جنگ، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مشکلات بڑھیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 77 فیصد کمی آئی، 30جون تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب ڈالر پر آجائے گا، لگژری اشیا کی درآمد کو روکا گیا، مشکل فیصلوں کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا، آئی ایم ایف کے نویں جائزے کی شرائط پورا کرچکےہیں، کوشش ہے کہ پروگرام پر جلد دستخط ہوجائیں، اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی میں کمی آنا چاہیئے، زرعی شعبے کےلئے2000 سے زائد کسان پیکیج دیا، گندم کی بمپر کراپ سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں زرعی شعبے کے لئے مزید مراعات کا ارادہ ہے، صنعتی شعبے کے لئے آئندہ سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، ایل ایس ایم سیکٹر میں بھی بہتری آئے گی، تاحال معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد ہے، بجٹ کو الیکشن بجٹ کے بجائے ذمہ دارانہ بنایا ہے، زرعی قرضوں کی حد 2250ارب روپے کی جا رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ تاحال معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم بجٹ کو الیکشن بجٹ کے بجائے ذمہ دارانہ بنایا ہے، آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد ہے، 50 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، معیاری بیجوں کی درآمد پر ڈیوٹیز ختم کردی ہیں، چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے بیج کو ڈیوٹیز سے مستثنی کردیا۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ بزنس ایگری کلچر لون اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے ، بزنس ایگری کلچر لون کے لیے 10 ارب روپے مختص کر دیے، چھوٹے کسانوں کو کم منافع پر قرضہ دیا جائے گا، چھوٹے کسانوں کو 10 ارب روپے کے قرضے دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کا شعبہ آنے والے دنوں میں انجن آف گروتھ ثابت ہوگا، آئی ٹی سیکٹر پر انکم ٹیکس کی شرح سال 2026 تک برقرار رہے گی، فری لانسر کی 24 ہزار ڈالر سالانہ آمدن پر ٹیکس سے چھوٹ ہوگی، وینچر کیپٹل فنڈ کے لیے 5 ارب روپے مختص کردیے، آئی ٹی سیکٹر پر 15 فیصد سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کردیا، آئندہ سال 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس تیار کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ چھوٹے کاروبار کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، ایس ایم ایز کے لیے 6 فیصد مارک اپ پر 20 فیصد رسک حکومت برداشت کرے گی، ایس ایم ایز کے لیے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے قیام کی تجویز ہے، برآمدات کے لیے ایکسپورٹ کونسل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ رائس ملز اور مائننگ مشینری کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دے دیا، ترسیلات زر برآمدات کے 90 فیصد کے برابر ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اگر پراپرٹی خریدیں گے تو ٹیکس ختم کردیا، ریمیٹنس کارڈ کے ساتھ ڈائمنڈ کارڈ کا اجراء کیا جارہا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تعلیم کی اہمیت پر دو رائے نہیں ہوسکتیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 135 ارب روپے مختص کردیے، ایک لاکھ افراد کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، ویمن ایمپاورمنٹ کے لیے 5 ارب روپے مختص کردیے، کاروباری خواتین کے لیے ٹیکس کی شرح میں چھوٹ دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبے سے 40 سے زائد صنعتیں جڑی ہوئی ہیں، آئندہ 3 سال تک کنسٹرکشن اینٹرپرائز کی آمدنی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی، اطلاق یکم جولائی اور بعد میں شروع ہونے والے تعمیراتی منصوبوں پر ہوگا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 450 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز کو 35 ارب روپے سے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی، استعمال شدہ کپڑوں پر 10 فیصد ڈیوٹی کو ختم کردیا، کم آمدنی والوں کے لیے مائیکرو ڈیپازٹ اسکیم شروع کی جارہی ہے، سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ رواں سال ایف بی آر کے محاصل 7200 ارب روپے رہنے کا اندازہ ہے، کل اخراجات کا تخمینہ 11 ہزار 90 ارب روپے ہے، دفاع پر 1510 ارب روپے خرچ ہوں گے، سول حکومت کے اخراجات 553 ارب ہوں گے، پنشن پر 654 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد ہے، آئندہ مالی سال بجٹ خسارے کا تخمینہ 6.54 فیصد ہے، آئندہ مالی سال برآمدات 30 ارب ڈالر اور ترسیلات کا ہدف 33 ارب ڈالر ہے، آئندہ مالی سال ایف بی آر کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 9200 ارب روپے ہے، وفاقی حکومت کی کل آمدنی 6887 ارب روپے ہوگی، وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 14460 ارب روپے ہوگا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال پی ایس ڈی پی کے لیے 950 ارب روپے رکھے ہیں، آئندہ مالی سال مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1150 ارب روپے ہوگا، آئندہ مالی سال دفاع کے لیے 1804 ارب روپے رکھے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجلی، گیس اور دیگر شعبہ جات کے لیے سبسڈی کی مد میں 1074 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم اور ریلوے سمیت دیگر شعبوں کے لیے 1464ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے، ورکنگ جرنسلٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کیا جارہا ہے، پنشن فنڈ کے قیام کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال افراط زر کا ہدف 21 فیصد ہے، سماجی شعبے کی ترقی کے لیے 244 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی بہتری کے لیے 107 ارب روپے مختص کیے ہیں، کراچی میں پینے کے پانی کے منصوبے کے لیے 17ارب 50 کروڑ روپے مختص کردیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے آئی ٹی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی ہے، اس سال کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جارہا، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے، رواں سال زیادہ آمدن والے افراد پر سپر ٹیکس لگایا تھا، سپر ٹیکس کے نفاذ کے لیے آمدن کی حد 15 کروڑ روپے ہے، برانڈڈ ٹیکسٹائل اور لیدر کی اشیا کی درآمد پر ٹیکس 15فیصد کردیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ای او بی آئی کے لیے کم از کم پنشن 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، بیواؤں کے لیے 10 لاکھ روپے تک قرضہ جات حکومت ادا کرے گی، ریسٹورنٹ میں آن لائن ادائیگی پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کردیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے، ایک سے 16 گریڈ تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایڈہاک 35 فیصد اور 17 سے 22 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا ہے، سرکاری ملازمین کی پنشن میں 17.5 فیصد تک اضافہ کردیا۔

Read Comments