Aaj Logo

شائع 03 جولائ 2023 08:47am

قرآن کی بے حرمتی کے واقعات گستاخانہ اوراشتعال انگیز ہیں، سوئیڈن نے مذمت کردی

سویڈن کی حکومت نے اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پٌاک کی بےحرمتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسے ’اسلاموفوبیا‘ سے متعلق عمل قرار دیا ہے۔

سویڈن کی وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار 2 جولائی کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ سویڈن میں ہونے والے مظاہروں کے دوران لوگوں کی جانب سے کی جانے والی اسلاموفوبیا کی کارروائیاں مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ہو سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کسی بھی طرح سویڈش حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔‘

یہ مذمت سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اجتماعی اقدامات کے مطالبے کے جواب میں سامنے آئی ہے۔

57 رکنی تنظیم نے بدھ یکم جولائی کو اپنے جدہ ہیڈ کوارٹر میں اس واقعے کا جواب دینے کے لئے اجلاس بُلایا تھا جس میں سویڈن میں مقیم ایک عراقی شہری 37 سالہ سلوان مومیکا نے مسجد کے باہر قرآن پاک کے کئی صفحات نذرآتنش کردیے تھے۔

’سویڈن میں کوئی جگہ نہیں‘

او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں رُکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ قرآن کے نسخوں کی بے حرمتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اور اجتماعی اقدامات کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ قرآن پاک یا کسی بھی اور مقدس کتاب کو نذر آتش کرنا توہین آمیز اور واضح اشتعال انگیزی ہے۔

سویڈش وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت اور اس سے متعلق عدم رواداری کی سویڈن یا یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ سویڈن کو ”اجتماع، اظہار اور مظاہرے کی آزادی کا آئینی طور پر محفوظ حق حاصل ہے“۔

عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور مراکش سمیت دیگر ممالک نے قرآن جلانے کے واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے سویڈن کے سفیروں کو طلب کیا ۔

سویڈش پولیس نے اس اقدام میں ملوث عراقی شہری مومیکا کو اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت اجازت نامہ جاری کیا تھا لیکن بعد میں حکام نے کہا کہ انہوں نے ’احتجاج اور نسلی گروہ‘ پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

Read Comments