شائع 23 جولائ 2023 12:56pm

برطانیہ میں مکانات کی بڑھتی قیمتوں نے محبت کے معنی بدل دیے

دنیا بھر میں بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے گھر خریدنا مشکل ہوچکا ہے، اور جن کا خواب تھا کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں گھر لے گرہستی بسائیں تو ان کا خواب اب صرف خواب ہی رہنے والا ہے، کیونکہ برطانیہ میں گھروں کی قیمتوں کا اثر شریک حیات کے انتخاب پر بھی پڑا ہے اور برطانوی مرد اب اپنے لیے کم عمر لڑکیوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ میں شائع ایک مضمون میں بتایا گیا کہ روزی کا بوائے فرینڈ کارل ایک مہربان اور فیاض شخص ہے، جو اچھا خاصا کماتا ہے اور اکثر روزی کو اپنے ساتھ غیرملکی دوروں پر بھی لے جاتا ہے، وہ ضرورت پڑنے پر روزی کو نقد رقم بھی دیتا ہے۔

روزی کا کہنا ہے کہ ان کا رشتہ خوشگوار ہے، وہ صرف اسے چاہتا ہے، لیکن وہ جانتی ہے کہ کارل کو دراصل روزی کی نہیں بلکہ اس کے فلیٹ کی ضرورت ہے۔

روزی کے والدین متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اور انہوں نے برسوں پہلے اسے ایک فلیٹ خرید کر دیا تھا، اس وقت قیمتیں کم تھیں۔

برطانیہ میں رہن کی قیمتوں میں اضافہ اور مکان کی اوسط قیمتیں، اوسط تنخواہ سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے، جبکہ کرایہ بلند ترین سطح پر ہے، ایسے میں لوگ اپنے لیے ایسے ساتھی کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں جن کے پاس گھر ہو یا وہ ادائیگی کیلئے ان کا ساتھ دے سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر 10 میں سے ایک شخص ایسے رشتے میں پھنسا ہوا ہے جس سے وہ خوش نہیں ، لیکن ساتھ رہنے پر مجبور ہے کیونکہ وہ گھر چھوڑنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر بریک اپ ہو بھی جائے تو پیچھا نہیں چھوٹتا کیونکہ قانون حصہ دار پارٹنر کو برسوں تک ساتھ رہنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات پیٹر کین وے کے مطابق برطانیہ کی نجی طور پر رکھی گئی رہائشی دولت کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ اب 50 سے زائد عمر کے لوگوں کے پاس ہے، اور انہوں نے پیشگوئی کی ہے کہ ہم جلد ہی ’جین آسٹن طرز کی شادی کا بازار دیکھ سکتے ہیں، جس میں لوگ ایسی پارٹنر کے ساتھ جڑنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے پاس کوئی جائیداد ہو۔‘

1970 کی دہائی کے بعد سے اوسط برطانیہ میں مکان کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر ایک گھر کی قیمت آپ کی تنخواہ سے 10 گنا زیادہ ہے اور قرض دہندگان آپ کو آپ کی آمدنی کا پانچ گنا تک قرض دیں گے تو اس کامطلب یہی ہے کہ آپ کو رہن کی درخواست پر ممکنہ طور پر دو ناموں کی ضرورت ہوگی۔

یہ پس منظر کچھ جوڑوں کو رشتہ ٹوٹنے کے بعد بھی قریبی کوارٹر میں رہنے پر مجبور کر رہا ہے۔

وائلیٹ اور ان کے ساتھی نے کورونا سے بالکل پہلے ایک چھوٹا سا فلیٹ خریدا، برسوں کے دوران ان کی آمدنی میں کمی آئی اور ان کے تعلقات کشیدہ ہونے لگے۔ لیکن کرائے پر گھر لینے اور نئے رہن کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کرنا ”مالی طور پر بیوقوفی“ ہوگی۔

وائلٹ کا کہنا ہے کہ مالی صورتحال کے تناؤ نے ہمارے تعلقات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ پھنس گئے ہیں۔ ’ہم ناخوشی کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں، ہم ایک ساتھ نہیں رہنا چاہتے‘۔

برائن 27 سال کے ہیں اور آئرلینڈ میں رہتے ہیں، جہاں 2016 کے بعد سے اوسط کرایوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے

برائن کا ماننا ہے کہ ’کسی بھی قسم کی ڈیٹنگ یا رشتہ ان کے لیے ناممکن ہے‘۔ جس کی ایک سادہ سی وجہ ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ایک ہی بستر پر سوتے ہیں۔ دونوں رہائش کے اخراجات کی وجہ سے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔

Read Comments