Aaj Logo

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2023 01:14pm

سائفر تحقیقات: ’امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی توریکارڈنگ سامنےآئی تھی‘

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر معاملے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ عدالت عالیہ نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی پر ایف آئی اے کے ساتھ پولیس کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔

چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل سردار لطیف کھوسہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے ایف آئی اے نوٹس کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت نے وکیل کے دلائل کے بعد کیس قابل سماعت ہونے سےمتعلق فیصلہ محفوظ کیا۔

فیصلہ محفوظ کرنے کے کچھ دیر بعد عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر انکوائری کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔

عدالت عالیہ نے مقدمات کی تفصیلات فراہمی پر ایف آئی اے کے ساتھ پولیس کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس بھی محفوظ نہیں۔

جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں سائفر کو 2 بار کنفرم کیا گیا، کیا کابینہ ایف آئی اے کو ہدایات دے سکتی ہے، کابینہ کی ڈائریکشن پرایف آئی اے نے انکوائری شروع کی۔

دلائل میں لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بلا لیں وہاں اس معاملے کو ڈسکس کرلیں، صرف یہ نہیں بلکہ کسی بھی وزیراعظم کا فون ٹیپ ہونا جرم ہے، جب وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا گیا تو پھر نئی حکومت تشکیل پائی۔

وکیل نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی زیرصدارت دوبارہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی نے سائفر کو دوبارہ کنفرم کیا۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سائفر کے معاملے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور اُن کے قریبی ساتھیوں کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کررہی ہے۔

عمران خان نے سائفر پر کیا کہا

کہانی شروع ہوتی ہے28 مارچ کی ایک شام کو۔ اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان پریڈ گراؤنڈ میں عوام کے جمِ غفیر کے سامنے اپنی جیب سے ایک کاغذ لہرا کر فرماتے ہیں: ”یہ ہے ایک خط۔“ یعنی یہ ہے میرا نیا بیانیہ ہے۔

اس وقت عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کو مروڑنے کی کوشش باہر سے کی جارہی ہے اور بیرونِ ملک سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا جارہا ہے۔

عمران خان نے لوگوں کو متوجہ کرنے کیلئے مزید کہا کہ اس سازش کا انھیں کئی ماہ سے علم تھا کہ یہ سازش ہو رہی ہے اور ”یہ جو آج اکٹھے ہوگئے ہیں، یہ جو آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہوگئے، جنھوں نے اکٹھا کیا ہے، ان کا بھی ہمیں پتا ہے۔“

سابق وزیراعظم عمران خان نے اس وقت جلسے سے مزید کہا تھا کہ حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیسہ باہر سے آیا ہے۔ لوگ ہمارے استعمال ہو رہے ہیں، زیادہ تر انجانے میں لیکن کچھ جان بوجھ کر ہمارے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ چونکہ گیم ابھی جاری تھی، لہٰذا انہوں نے ایک کھڑکی ساتھ ہی کھولتے ہوئے ”منحرف“ اراکین کو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمارے خلاف جو ووٹ دینے جائے گا، میں ان سے یہ کہوں گا کہ یہ نہ کرنا۔

خط کے ثبوت ہونے کا دعویٰ

عمران خان نے اس وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ ”میرے پاس جو خط ہے یہ ثبوت ہے، اور اگر کوئی بھی شک کر رہا ہے تو میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں کس قسم کی بات کر رہا ہوں۔“

عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش کی ایسی بہت سی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر اور بہت جلد سامنے لائی جائیں گی اور قوم جاننا چاہتی ہے کہ لندن میں بیٹھا ہوا شخص کس سے ملاقاتیں کر رہا ہے اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے پر چل رہے ہیں؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے جائے، ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔

سائفر ہے کیا

سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈ کی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں ایسے افسران ہیں ، جنھیں سائفر اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

Read Comments